صفحہ اول - اردوJM
جمعہ 17 جولائی 2026ء
پاکستان

وزیر اعظم سے "اُڑان اوورسیز پاکستان سمر اسکالرز پروگرام" کے اسکالرز کی ملاقات

جمعہ 17 جولائی 2026ء


وزیر اعظم سے "اُڑان اوورسیز پاکستان سمر اسکالرز پروگرام" کے اسکالرز کی ملاقات

اسلام آباد : وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے "اُڑان اوورسیز پاکستان سمر اسکالرز پروگرام" کے اسکالرز نے ملاقات کی ۔اسکالرز وزارتِ منصوبہ بندی و ترقیات کے تحت پاکستان کو درپیش مسائل پر تحقیق کے لیے چھ ہفتوں کی انٹرن شپ کر رہے ہیں

 

وزیرِ اعظم نے دنیا کی ممتاز جامعات میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا پاکستان میں انٹرنشپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا قومی ترقی میں نوجوانوں کا   کلیدی کردار ہے۔ پوری دنیا میں آج پاکستانی طلباء و طالبات ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اسکالرز کو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دی اور انکے سوالات کے جوابات دیے۔

 

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا تھا تب ہنگامی معاشی اصلاحات کے ذریعے استحکام کا حصول ممکن ہوا ۔ جامع اصلاحات میں ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن اور محاصل میں اضافہ، کاروبار میں آسانی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، زرعی شعبے کی ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، قابل تجدید  توانائی کا فروغ اور پائیدار معاشی ترقی سمیت اصلاحات شامل ہیں۔  

 

انہوں نے کہا کہ مؤثر انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 800 ارب روپے سے زائد اضافی محصولات جمع کیں۔ حکومت کی معاشی اصلاحات کا مقصد مضبوط، خود کفیل اور برآمدات پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنا ہے۔   فیلڈ مارشل کی قیادت اور قوم کی بھرپور حمایت سے پاکستان نے مئی 2025 میں بھارت کو شکست دی۔  

 

انہوں نے کہا کہ  امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ رکوانے میں پاکستان کی ثالثی کا کردار پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔  پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) طے پائی، جو عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔  وزیرِ اعظم نے اسکالرز پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور عالمی تجربے کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔

 

اجلاس میں طلباء و طالبات نے مختلف شعبوں میں بہتری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی, وزیر مملکت برائے قومی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیحہ قمر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔