صفحہ اول - اردوJM
جمعہ 01 مئی 2026ء
متحدہ عرب امارات

روایتی صحافت سے اپنے نیوز روم تک: عاصمہ علی زین کی جرات مندانہ پیش قدمی

جمعہ 01 مئی 2026ء


روایتی صحافت سے اپنے نیوز روم تک: عاصمہ علی زین کی جرات مندانہ پیش قدمی

’دی گلف پلس‘ کے ذریعے خلیج کے رئیل اسٹیٹ صحافت کو نئی جہت دینے والی ایک تجربہ کار صحافی کی کہانی

دبئی: پچیس برس سے زائد عرصے تک خلیج کی کہانیاں قلم بند کرنے والی سینئر صحافی عاصمہ علی زین نے شاید کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن وہ خود اپنا نیوز روم قائم کریں گی۔ مگر ستمبر 2025 میں انہوں نے روایتی میڈیا کے محفوظ دائرے سے نکل کر ایک نیا راستہ چنا اور ’دی گلف پلس‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی، جو مکمل طور پر خلیج کے رئیل اسٹیٹ ایکو سسٹم پر مرکوز ہے۔
یہ صرف ایک نیا میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ صحافت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش بھی ہے۔

’صرف خبریں نہیں، ان کا پس منظر بھی ضروری ہے‘
عاصمہ علی زین کہتی ہیں کہ یہ خیال کافی عرصے سے ان کے ذہن میں موجود تھا۔ ان کے مطابق خلیج میں رئیل اسٹیٹ صرف عمارتوں اور سرمایہ کاری کا نام نہیں، بلکہ یہ معیشت، پالیسی سازی اور سماجی تبدیلی کا ایک اہم ستون ہے، مگر اس شعبے کی
رپورٹنگ اکثر محض اعلانات اور منصوبوں تک محدود رہتی ہے۔

وہ کہتی ہیں:
’مجھے محسوس ہوا کہ ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو صرف خبریں نہ دے بلکہ ان کے پس منظر، اثرات اور باہمی تعلق کو بھی سامنے لائے۔‘

’اپنا پلیٹ فارم بنانا، اپنے یقین پر اعتماد کا امتحان ہے‘
روایتی میڈیا چھوڑ کر اپنا پلیٹ فارم شروع کرنا ان کے لیے آسان فیصلہ نہیں تھا۔ نہ ادارہ جاتی تحفظ، نہ پہلے سے طے شدہ قارئین، اور نہ اشتہاراتی ڈھانچے کی ضمانت—صرف اپنے وژن پر بھروسا۔

وہ کہتی ہیں:
’لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرپرینیورشپ بہت دلکش چیز ہے، مگر حقیقت میں یہ اپنی سوچ اور فیصلوں پر یقین کا امتحان ہوتا ہے۔‘

مختصر وقت میں ’دی گلف پلس‘ کی الگ شناخت
ابتدائی مہینوں میں ’دی گلف پلس‘ نے فطری انداز میں ایک ایسا قارئین حلقہ بنایا ہے جو پراپرٹی ٹرینڈز، پراپ ٹیک، ثقافت اور کمیونٹی جیسے موضوعات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی مگر مضبوط ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے، جو اس مخصوص شعبے کی باریکیوں سے بخوبی واقف ہے۔
’مقصد صرف پھیلاؤ نہیں، اعتبار قائم کرنا ہے‘

عاصمہ علی زین کے مطابق ان کا ہدف صرف وسعت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مستند پلیٹ فارم قائم کرنا ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے۔
ان کے الفاظ میں:
’اگر خلیج مستقبل کے شہر تعمیر کر رہا ہے تو صحافت کو بھی اسی رفتار سے خود کو بدلنا ہوگا۔‘

ایک صحافی سے بانیِ نیوز روم تک
عاصمہ علی زین کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ صحافت صرف اداروں کے اندر محدود نہیں، بلکہ تجربہ، وژن اور جرات کے ساتھ نئے پلیٹ فارمز بھی جنم لے سکتے ہیں۔

’دی گلف پلس‘ اسی سوچ کا اظہار ہے—جہاں خبر صرف اطلاع نہیں، بلکہ بصیرت بھی ہے