جمعہ 01 مئی 2026ء
انہوں نے کہا کہ قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر نہ صرف معیشت کو مستحکم بناتی ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دبئی میں انڈیکس ایکسچینج کی جانب سے “اب کی بار — روشن پاکستان کی بہار” کے عنوان سے شروع کی جانے والی آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے روشن اور خود کفیل مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہے، خصوصاً گرین انرجی کے فروغ کے حوالے سے۔
انڈیکس ایکسچینج کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ہمایوں مراد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارہ ہمیشہ سے اپنے صارفین کو جدید اور مؤثر مالی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “روشن پاکستان” مہم دراصل ایک وژن کی عکاس ہے جس کے ذریعے نہ صرف ترسیلات زر کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع خصوصاً سولر انرجی کے استعمال کو بھی عام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مستقبل میں پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر، علی زیب خان نے کہا کہ اس نوعیت کی مہمات ترسیلات زر کے نظام کو مزید مضبوط بناتی ہیں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گرین انرجی کے منصوبے پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہیں اور ایسے اقدامات کو بھرپور طریقے سے فروغ دینا چاہیے۔
اس موقع پر انڈیکس ایکسچینج کے چیف آپریٹنگ آفیسر، سید عبدالسلام نے کہا کہ یہ مہم محض ایک پروموشن نہیں بلکہ ایک جامع وژن ہے، جس کے تحت صارفین کو مالی سہولیات کے ساتھ ساتھ ایک پائیدار مستقبل کی جانب بھی راغب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر انرجی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے اور ادارہ اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
چیف بزنس آفیسر، میر کے رسول نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر ترسیلِ زر ایک کہانی ہوتی ہے جو محنت، محبت اور ذمہ داری سے جڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے ان کہانیوں کو ایک نئی سمت دی جا رہی ہے جہاں ہر ٹرانزیکشن نہ صرف خاندانوں کی مدد کرتی ہے بلکہ انہیں توانائی کے خودمختار حل کی طرف بھی لے جاتی ہے۔
تقریب میں پریس قونصلر صالح محمد، پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات بشمول شبیر مرچنٹ، راشد اشرف، سید سلیم اختر، انجینئر زبیر خان، سلمان وصال، عامر حسن، ڈاکٹر محمود رحمان، ڈاکٹر ظفر طاہر، اعجاز بخاری، خالد اے ملک، شاہد آصغر بنگش، رانا احمر رفیق اور خلیل الرحمان بونئیری نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ اس مہم کے تحت صارفین جب بھی انڈیکس ایکسچینج کے ذریعے پاکستان رقم بھیجیں گے تو ہر ٹرانزیکشن پر انہیں قرعہ اندازی کے ذریعے اپنے گھروں کو سولر پینلز سے روشن کرنے کا موقع حاصل ہوگا، جو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی سطح پر ترقی کا ذریعہ بنے گا۔
تقریب کے اختتام پر “جو دل ہے، جو ہے جاں — آؤ کریں روشن پاکستان” کے پیغام کے ساتھ شرکاء کو اس مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی
عجمان کے سیاحتی مراعات پیکج سے ہوٹل انڈسٹری کو بڑا سہارا ملے گا:
قونصل جنرل پاکستان، حسین محمد نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمارے قومی اثاثہ ہیں اور ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں
روایتی صحافت سے اپنے نیوز روم تک: عاصمہ علی زین کی جرات مندانہ پیش قدمی
متحدہ عرب امارات نے نئی اقتصادی کلسٹر پالیسی کی منظوری دے دی
راس الخیمہ کا میگا پراجیکٹ "RAK سینٹرل" 2027 میں کاروبار اور رہائشیوں کا خیرمقدم کرے گا
اماراتی پولیس کا شہریوں کو انتباہ
وزیراعظم: نوجوانوں کو باعزت روزگار اور جدید تربیت سے معاشی مواقع دینا حکومت کی ترجیح
سعودی عرب میں پاکستانی وفد کا شاندار استقبال، پاک سعودی تعلقات نئی جہت کی جانب