سیالکوٹ (جانب منزل نیوز) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور صوبے کی حکومت کسی لٹیرے کے ہاتھ میں نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، ملکی سیاسی صورتحال اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی اظہار خیال کیا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئین کی دفعات 232 اور 234 کے نفاذ اور سیاسی کردار کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا مقصد صوبے میں استحکام لانا تھا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ سینیٹ میں پیش کی جانے والی تفصیلات سے سیاسی رہنماؤں کے کردار سے متعلق کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔
وزیر دفاع نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی قیادت نے شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کے دعوے کرنے والے رہنما اب میدان میں نظر نہیں آ رہے۔
خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کی حکومت کسی صورت کسی لٹیرے کے حوالے نہیں کی جائے گی اور آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے برادر ملک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم دفاعی معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے، جن کی نگرانی فیلڈ مارشل کر رہے ہیں۔
معاشی اور انتظامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن کی جانب سے قومی خزانے میں 323 ارب روپے ٹیکس کی ادائیگی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے بعض سول اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کو بہتر بنانے اور ان کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بینکوں کی نجکاری نہ کی جاتی تو بعض ادارے دیوالیہ ہو سکتے تھے۔
وزیر دفاع نے وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سول اور فوجی اداروں کے درمیان تعاون کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر انہیں حکومت میں شراکت کی کوئی امید ہے تو انہیں اپنی سیاسی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں حالات بہتر ہوں گے اور سیاسی و انتظامی استحکام کی جانب پیش رفت جاری رہے گی۔





