لاہور (جانب منزل نیوز) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ قومی پالیسی تشکیل دینا ناگزیر ہے۔ اتفاق رائے کے بجائے کوئی دوسرا آپشن مسلط کیا گیا تو ریاست کا وفادار شہری ہونے کے باوجود وہ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
لاہور میں پارٹی رہنما بلال میر کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو سکی، اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی جیسے اہم مسئلے پر تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے ممکنہ اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بلوچستان میں پہلے ایسا اقدام کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار شخصیات کو سیاست دانوں اور ملک کا مذاق اڑانے کے بجائے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعض ذمہ دار شخصیات کا خیال ہے کہ ان کا بیانیہ ان سے مطابقت نہیں رکھتا، تاہم ان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی ایک فریق کا مؤقف مسلط کرنے کے بجائے متفقہ قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک میں جہاں بھی ایمرجنسی نافذ کی گئی، وہ اس کی مخالفت کریں گے۔
محمود خان اچکزئی کی جانب سے اپنے بارے میں دیے گئے بیان سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ محمود خان اچکزئی نے ان کے حوالے سے کیا گفتگو کی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جلسوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اس لیے انہیں اپنے سابقہ بیانات کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ سے قبل حکومتی جماعت کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب کے مطالبات سامنے آ گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو بے اختیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسیوں کے معاملے میں سیاسی ذمہ داری ہمیشہ پیپلزپارٹی کے حصے میں آتی رہی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جائے گی۔ انہوں نے ریاض پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں عمرے کی ادائیگی کے لیے احرام باندھے ہوئے افراد کی شہادت افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے اور پاکستان کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔





