دبئی (جانب منزل نیوز) مستقبل کی دنیا میں سفر کیسا ہوگا؟ دبئی اس سوال کا جواب جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں کے ذریعے دینے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں زیرِ زمین سفری نظام، جدید میٹرو لائنز، بغیر ڈرائیور گاڑیاں اور اڑنے والی ٹیکسیاں شہری نقل و حرکت کا نیا تصور پیش کر رہی ہیں۔
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی شہر میں بڑھتی ہوئی سفری ضروریات کو پورا کرنے اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے جدید منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے سفر کو زیادہ آسان، مؤثر اور جدید بنانا ہے۔
دبئی میٹرو بلیو لائن کا 20.5 ارب درہم کا منصوبہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ نظام میں اہم پیش رفت ہے۔ تقریباً 30 کلومیٹر طویل اس لائن پر 14 اسٹیشن تعمیر کیے جانے ہیں، منصوبے کی تکمیل ستمبر 2029 کے لیے مقرر ہے۔ میٹرو گولڈ لائن کا 34 ارب درہم کا منصوبہ بھی شہر کے سفری نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے وژن کا حصہ ہے۔
دبئی میں مستقبل کے سفر کا تصور صرف میٹرو تک محدود نہیں۔ زیرِ زمین سرنگوں میں برقی گاڑیوں کے ذریعے سفر کے لیے دبئی لوپ جیسے منصوبے زیرِ غور ہیں، اڑنے والی ٹیکسیوں اور خودکار گاڑیوں کے ذریعے شہری ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کی مدد سے ٹریفک مینجمنٹ بہتر بنانے، سفری وقت کم کرنے اور ٹرانسپورٹ سسٹم کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ دبئی کا ہدف 2030 تک 25 فیصد سفری سفرات کو خودکار ٹرانسپورٹ کے ذریعے ممکن بنانا ہے۔
دبئی کے یہ منصوبے مستقبل کی بڑھتی ہوئی سفری ضروریات کے پیش نظر جدید انفراسٹرکچر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ زیرِ زمین نیٹ ورک سے لے کر فضائی ٹیکسیوں تک، امارت کا ٹرانسپورٹ وژن شہری سفر کو نئی جہت دینے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سفری سہولتیں بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔





