دبئی (خانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں نومبر کے دوران آسمان پر قدرت کے کئی دلکش نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ اس ماہ تین شہابی بارشیں، نیا چاند ، بیور مون اور موسمِ سرما کے روشن ستارے آسمان پر جلوہ گر ہوں گے۔
ایمریٹس آسٹرونومی سوسائٹی کے چیئرمین اور عرب یونین فار آسٹرونومی اینڈ اسپیس سائنسز کے رکن ابراہیم الجروان کے مطابق نومبر میں فلکیاتی مشاہدے کے شوقین افراد کو کئی منفرد مواقع میسر آئیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمِ خزاں میں متحدہ عرب امارات کے صحرائی علاقوں میں مصنوعی روشنی سے دور رہ کر آسمان کا مشاہدہ خاص طور پر خوشگوار تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہِ نومبر کا پہلا بڑا فلکیاتی نظارہ سدرن ٹوریڈز ہوگا، جس کا عروج 4 اور 5 نومبر کو متوقع ہے۔ اس دوران آسمان پر غیر معمولی طور پر روشن شہابیے، جنہیں فائر بالز کہا جاتا ہے، دکھائی دے سکتے ہیں۔
9 نومبر کو نیا چاند ہوگا، جس کے باعث آسمان پر چاندنی کم ہونے سے مدھم ستاروں اور ستاروں کے جھرمٹ دیکھنے کے لیے بہترین حالات پیدا ہوں گے۔
ناردرن ٹوریڈز کی سرگرمی 11 اور 12 نومبر کو عروج پر ہوگی، جبکہ مشہور لیونڈز شہابی بارش 16 اور 17 نومبر کو اپنے عروج پر پہنچے گی۔ لیونڈز کے شہابیے تقریباً 70 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور موزوں حالات میں فی گھنٹہ تقریباً 15 شہابیے دیکھے جا سکتے ہیں۔24 نومبر کو مکمل چاند ہوگا، جسے شمالی امریکا کی روایتی اصطلاح میں بیور مون کہا جاتا ہے۔ اس رات چاند تقریباً مکمل روشن دکھائی دے گا، تاہم تیز چاندنی کے باعث مدھم ستاروں کا مشاہدہ قدرے مشکل ہو سکتا ہے۔
نومبر میں پیلیڈیز ستاروں کا جھرمٹ، ایلڈیبارن اور کیپیلا بھی مشرقی آسمان پر نمایاں ہونا شروع ہوں گے۔ اس کے علاوہ مشہور برج جبار بھی رات کے آسمان کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا۔
برج جبار کی شناخت اس کے تین قطار میں موجود ستاروں سے کی جا سکتی ہے، جنہیں اورائنز بیلٹ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت سیریس بھی نمایاں ہوگا، جو آسمان کا روشن ترین ستارہ ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق کینوپس ستارہ بھی جنوبی افق پر دکھائی دے گا، جسے عرب فلکیات اور خلیجی سمندری روایات میں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔





