دبئی (جانب منزل نیوز) کرکٹ کی دنیا کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے بھارت کے ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹر ویبھو سوریاونشی کی قیادت کے حوالے سے اہم رائے دیتے ہوئے انہیں جلد بڑی ذمہ داریاں سونپنے کی مخالفت کردی ہے۔ سچن کا کہنا ہے کہ صرف 15 سال کی عمر میں نوجوان کھلاڑی کو قیادت کے بجائے اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں تجربہ حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
یبھو سوریاونشی دلیپ ٹرافی اور رنجی ٹرافی میں بہار کی ٹیم کے نائب کپتان کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، تاہم سچن ٹنڈولکر کے مطابق انہیں ابھی ریڈ بال کرکٹ میں مزید میچ کھیلنے اور کھیل کی باریکیوں کو سمجھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
بھارت کرکٹ سے متعلق ریڈٹ کے سوال و جواب کے سیشن میں سچن سے ویبھو کو کم عمری میں قیادت کی ذمہ داریاں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر انہوں نے واضح کیا کہ دلیپ ٹرافی میں نائب کپتانی بھی اس مرحلے پر قبل از وقت ہے، نوجوان کھلاڑی کو ایک وقت میں ایک قدم آگے بڑھنا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سچن ٹنڈولکر نے بھی کم عمری میں عالمی کرکٹ میں اپنی پہچان بنائی تھی۔ انہوں نے نومبر 1989 میں صرف 16 سال کی عمر میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور بعد ازاں دنیا کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار ہوئے۔
سچن کے مشورے کو نوجوان کھلاڑی کے کیریئر کے لیے ایک اہم رہنمائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں فوری شہرت اور ذمہ داریوں کے بجائے مسلسل محنت، تجربے اور بتدریج ترقی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔





