دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات کے بینکاری شعبے نے 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران شاندار مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک کے بڑے بینکوں نے منافع اور آمدن میں اضافہ ریکارڈ کیا، جس میں قرضوں کی فراہمی میں توسیع، بینکاری خدمات سے حاصل ہونے والی فیس اور قرضوں کی بہتر واپسی نے اہم کردار ادا کیا۔
فرسٹ ابوظبی بینک، ایمریٹس این بی ڈی اور ابوظبی کمرشل بینک سمیت بڑے بینکوں نے اپنی مالیاتی رپورٹس میں آمدن اور منافع میں بہتری ظاہر کی۔ ابوظبی اسلامک بینک، مشرق اور دبئی اسلامک بینک نے بھی فنانسنگ اور مجموعی کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاع دی۔
رپورٹ کے مطابق ایمریٹس این بی ڈی کی آمدن میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ابوظبی کمرشل بینک کی نان انٹرسٹ آمدن 21 فیصد بڑھ گئی۔ ابوظبی اسلامک بینک کی فنانسنگ میں سالانہ بنیاد پر 25 فیصد اور مشرق بینک کے صارفین کو دیے گئے قرضوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اماراتی بینکوں میں قرضوں کی فراہمی کی رفتار کئی اداروں میں ڈپازٹس کے اضافے سے زیادہ رہی، جس کے باعث فنڈنگ کی لاگت اور صارفین کے ڈپازٹس برقرار رکھنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق بینکوں کے لیے آئندہ سہ ماہی میں قرضوں کی فراہمی کے ساتھ کم لاگت پر سرمایہ حاصل کرنا منافع برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
متعدد بینکوں نے غیر فعال قرضوں کی شرح میں کمی اور قرضوں کے ممکنہ نقصانات کے لیے مختص رقوم میں بہتری رپورٹ کی۔ فرسٹ ابوظہبی بینک کے غیر فعال قرضوں کی شرح 2.1 فیصد جبکہ ایمریٹس این بی ڈی کی شرح 2 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق متنوع بینکاری خدمات، بہتر مالیاتی نظم و نسق اور قرضوں کی مستحکم فراہمی نے اماراتی بینکاری شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کی نظر میں سال کی آخری سہ ماہی میں فنڈنگ کی لاگت بینکوں کے منافع کا اہم تعین کرے گی۔





