نئی دہلی (جانب منزل نیوز) معروف بھارتی پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے نئی دہلی میں اپنے کنسرٹ کے دوران ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجابیوں کو لڑنا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے محبت کرتے ہیں اور فنکار ہونے کے ناتے خاموش رہنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔
دلجیت دوسانجھ نے جمعے کو اپنے ’’اَورا انڈیا ٹور‘‘ کے پہلے کنسرٹ میں اس تنازع پر گفتگو کی، جو رواں سال طلبہ کے احتجاج میں شرکت اور سیاسی مؤقف اختیار نہ کرنے کے ان کے فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا۔
گلوکار کے بیان پر کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابھجیت ڈپکے سمیت بعض افراد نے تنقید کی تھی، خصوصاً فلم ’ستلج‘ سے ان کی وابستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھلرا کی زندگی پر مبنی ہے۔
کنسرٹ کے دوران دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ وہ سب سے محبت کرتے ہیں اور انہیں خاموش رہنے دیا جائے۔ انہوں نے فلم ’ستلج‘ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم کے لیے طویل جدوجہد کی گئی ہے اور جس فلم کا مذاق اڑایا جارہا ہے، وہ ایک اہم مقصد سے وابستہ ہے۔
گلوکار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’پنجابیوں کو نہ سکھاؤ کہ لڑائیاں کیسے لڑی جاتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ان سے نفرت کرتا ہے تو بھی وہ سب سے محبت کرتے رہیں گے۔
دلجیت دوسانجھ کے بیان کے بعد سی جے پی رہنما ابھجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پر گلوکار کے نام ایک تفصیلی پیغام جاری کیا۔
ڈپکے نے لکھا کہ جون میں احتجاج کے دوران دلجیت کے بیان سے انہیں دکھ پہنچا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ گلوکار کو حق کے لیے آواز اٹھانے والی شخصیت سمجھتے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اختلاف کے باوجود دلجیت کے لیے ان کی عزت اور محبت برقرار ہے اور وہ آج بھی ان کے مداح ہیں۔
دلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام لائیو سیشن میں بھی واضح کیا کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں اہمیت دیتے ہیں جو انہیں پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔





