واشنگٹن ( جانب منزل نیوز) وائٹ ہاؤس کی نئی مقرر کردہ پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کی پہلی پریس بریفنگ کے بعد ان کی قانونی اسناد اور وکالت کے تجربے سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ان کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہونے یا کسی اسٹیٹ بار کی رکنیت کا ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
کیٹی زکریا نے اپنی پہلی سرکاری پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیاست میں آنے سے پہلے وہ وکالت کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق امریکا کی کسی ریاست یا ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں ان کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کا ریکارڈ نہیں ملا۔
یونیورسٹی کے مطابق کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ امریکی قوانین کے تحت محض قانون کی ڈگری حاصل کرنا وکالت کے لیے کافی نہیں، بلکہ متعلقہ ریاست کے بار امتحان میں کامیابی اور لائسنس کا حصول بھی ضروری ہوتا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے بار کا امتحان کہاں سے پاس کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت چین چلی گئی تھیں۔
بعد ازاں اپنے بیان میں کیٹی زکریا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ڈگریوں کے ساتھ بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں کام کیا ہے۔ ان کے مطابق چینی قوانین کے تحت باقاعدہ وکیل کے طور پر پریکٹس کرنے کے لیے چینی شہری ہونا ضروری ہے، جبکہ غیر ملکی شہری یا عملہ قانونی امور پر مشورہ دے سکتا ہے، لیکن باضابطہ طور پر وکالت نہیں کر سکتا۔
کیٹی زکریا کی قانونی اسناد اور پیشہ ورانہ تجربے سے متعلق سامنے آنے والے سوالات نے وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کی پہلی بریفنگ کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم ان کے قانونی تجربے سے متعلق دعووں اور اعتراضات کی حتمی حقیقت جاننے کے لیے مزید مستند دستاویزی شواہد ضروری ہوں گے۔





