واشنگٹن (جانب منزل نیوز) وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا اپنی تقرری کے چھٹے روز ہی عہدے سے مستعفی ہوگئیں۔ مختصر مدتِ ملازمت کے دوران ان کے پیشہ ورانہ پس منظر، وکالت کے دعوے اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے کے انداز پر مسلسل تنقید ہوتی رہی۔
کیٹی زکریا کو اپنی پہلی اور واحد پریس بریفنگ کے دوران اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے گفتگو میں ہچکچاہٹ اور غیر روانی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیں۔ تقریباً 14 منٹ جاری رہنے والی اس بریفنگ میں انہوں نے صرف تین صحافیوں کے سوالات لیے، جن کا تعلق قدامت پسند یا ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ سے تھا۔
بعد ازاں ان کے وکالت کے دعوے اور قانونی اسناد سے متعلق سوالات نے تنازع کو مزید شدت دے دی۔ کیٹی زکریا نے اعتراف کیا کہ وہ کیلیفورنیا کا لازمی بار امتحان پاس نہیں کر سکی تھیں، جس کے بعد ان کے قانونی پس منظر پر عوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کیٹی زکریا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ترجمان سے کہا کہ کیا انہیں مسلسل تنقید کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے؟ صدر نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کیٹی زکریا اچھی زندگی گزاریں اور انہیں میڈیا کی جانب سے مسلسل تنقید برداشت نہ کرنا پڑے۔
ٹرمپ نے میڈیا کے رویے کو کیٹی زکریا کو بے رحمی سے نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا۔





