دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایئرلائن کے سامان سے متعلق قواعد جاننا ضروری ہے۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق کھانے پینے کی بعض اشیاء، مصالحے، مخصوص پھل، پاور بینک، اضافی بیٹریاں اور نوکیلے اوزار سفر کے دوران پابندیوں یا خصوصی شرائط کے تابع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسی چیز کو جہاز میں لے جانے کی اجازت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے منزل کے ملک میں درآمد کرنے کی بھی اجازت حاصل ہے۔ اس لیے مسافروں کو روانگی سے پہلے متعلقہ ایئرلائن اور کسٹمز حکام کی ہدایات دیکھنی چاہییں۔
کھانے پینے کی اشیاء: گھر میں تیار کردہ کھانا، بعض مخصوص اجزاء، تیز بو والے پھل، گوشت اور جلد خراب ہونے والی غذاؤں پر مختلف قواعد لاگو ہو سکتے ہیں۔ دبئی کسٹمز کی فہرست میں بعض غذائی اشیاء ممنوع قرار دی گئی ہیں، جبکہ مخصوص پھلوں پر ایئرلائن کی پابندیاں بھی موجود ہیں۔
مصالحے، گھی اور اچار: ان اشیاء کو دستی سامان یا چیک اِن بیگ میں رکھنے کے قواعد مختلف ہو سکتے ہیں۔ سوپ، چٹنی، جام اور دیگر مائع یا نیم مائع اشیاء کے لیے دستی سامان میں عموماً 100 ملی لیٹر فی کنٹینر کی حد لاگو ہوتی ہے، تاہم مخصوص استثنا اور ایئرلائن کے قواعد کی تصدیق ضروری ہے۔
الیکٹرانک سامان، پاور بینک اور اضافی لیتھیم بیٹریاں مخصوص شرائط کے تحت لے جائی جا سکتی ہیں۔ ای سگریٹ عموماً دستی سامان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ ہوور بورڈز، موٹرائزڈ سوٹ کیسز اور بڑی بیٹریوں پر اضافی پابندیاں ہو سکتی ہیں۔
نوکیلے اوزار اور خطرناک مواد: چاقو، تیز دھار اوزار، آتش بازی، آتش گیر مائعات، زہریلے مادے اور دباؤ والی گیسیں جہاز میں لے جانے کے حوالے سے سخت قواعد کے تابع ہو سکتی ہیں۔
زمزم، بچوں کی خوراک اور ادویات: ان اشیاء کے لیے مخصوص شرائط یا استثنا موجود ہو سکتے ہیں۔ مسافروں کو متعلقہ ایئرلائن سے پیکنگ، مقدار اور سفر کے روٹ کے مطابق تازہ معلومات حاصل کرنی چاہییں۔
مسافر روانگی سے پہلے اپنی ایئرلائن کی تازہ ہدایات دیکھیں، تصدیق کریں کہ کوئی چیز دستی سامان میں رکھی جا سکتی ہے یا چیک اِن بیگ میں، اور منزل و ٹرانزٹ ممالک کے کسٹمز قوانین بھی معلوم کریں۔
متحدہ عرب امارات میں داخلے کے قواعد کے لیے دبئی کسٹمز جبکہ سامان سے متعلق ہدایات کے لیے امارات، اتحاد ایئرویز، فلائی دبئی یا ایئر عربیہ کی متعلقہ ویب سائٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
یہ معلوماتی رہنمائی مسافروں کو غیر ضروری تاخیر اور سامان ضبط ہونے کے خدشات سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اشیاء کی اجازت، مقدار اور پیکنگ کے قواعد ایئرلائن اور سفر کے روٹ کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔





