دبئی (جانب منزل نیوز) دبئی میں زیرِ تعلیم سات بھارتی ہائی اسکول طلبہ نے پلاسٹک کے کچرے کو قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد پلاسٹک آلودگی میں کمی اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں مدد دینا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق ’’میتھا گرین‘‘ (Methagreen) نامی اس منصوبے کے تحت ہائی ڈینسٹی پولی ایتھلین (HDPE) پلاسٹک کو کیمیائی عمل کے ذریعے ڈائیمتھائل ایتھر (DME) نامی ایندھن میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ پلاسٹک عام طور پر بوتلوں، کنٹینرز اور پیکنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ ٹیم کے مطابق تیار ہونے والا ایندھن مناسب نظام کے ذریعے کھانا پکانے یا موزوں جنریٹر سے بجلی پیدا کرنے کے کام آ سکتا ہے۔
یہ منصوبہ ابتدائی طور پر اسکول مقابلے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم کامیابی کے بعد طلبہ نے اس پر مزید تحقیق کی اور اسے بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز شامل کیں۔ ٹیم نے اپنا منصوبہ جیٹیکس نارتھ اسٹار 2025 اور زاید سسٹین ایبلٹی پرائز سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا۔
منصوبے کے شریک بانی کیان بیجن کے مطابق ٹیم نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے، فوسل فیول کے محدود ذخائر اور مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خیال پر کام شروع کیا۔ منصوبے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دوبارہ کیمیائی عمل میں استعمال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
طلبہ نے گریڈ 12 کے امتحانات کے بعد ایک چھوٹے پیمانے کا تجرباتی ماڈل بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو روزانہ تقریباً 100 کلوگرام ایچ ڈی پی ای پلاسٹک پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس ماڈل کے ذریعے عمل کی کارکردگی، توانائی کی پیداوار اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ٹیم اس منصوبے پر تحقیقی مقالہ شائع کرنے اور 2027 کے وسط تک پیٹنٹ حاصل کرنے کی بھی خواہش مند ہے۔ تاہم، منصوبہ ابھی ترقی اور آزمائش کے مرحلے میں ہے اور اس کی توانائی کی افادیت، اخراج اور عملی کامیابی ثابت کرنے کے لیے مزید تجربات درکار ہیں۔
طلبہ کو امید ہے کہ کامیاب آزمائش کے بعد یہ منصوبہ پلاسٹک کے کچرے کو مفید وسیلے میں تبدیل کرنے اور متبادل توانائی کے امکانات بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔





