دبئی (جانب منزل نیوز) اے آئی کا استعمال اب روزمرہ زندگی کے ساتھ کاروباری معاملات میں بھی نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔ دبئی کے ایک کیفے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک صارف نے فوڈ ڈیلیوری آرڈر کی رقم واپس لینے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ تصویر پیش کی، جس میں مشروبات گرے ہوئے دکھائے گئے تھے۔
دیرا کے علاقے المرّقبات میں واقع کیفے تاؤ ایونیو (Taho Avenue) کے مطابق تصویر میں موجود کپوں، ڈھکنوں اور برانڈنگ کا اس کی اصل پیکنگ سے موازنہ کیا گیا تو کئی فرق سامنے آئے۔ کیفے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آرڈر میں بوبا ڈرنکس شامل تھے، جبکہ تصویر میں ساگو جیسا مواد دکھائی دے رہا تھا۔
کیفے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے مشروبات کو ڈیلیوری کے دوران محفوظ رکھنے کے لیے کپوں پر چپکنے والی ٹیپ لگائی جاتی ہے، جس کے باعث تصویر میں دکھائی گئی صورتِ حال مزید سوالات کا سبب بنی۔ کاروبار نے اپنے اصل کپوں اور پیکنگ کی تصاویر بھی شیئر کیں تاکہ فرق واضح کیا جا سکے۔
چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کے لیے اہم مطالبہ
کیفے کے مطابق ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے کمیشن اور دیگر چارجز فروخت کا 32 سے 45 فیصد تک ہو سکتے ہیں، اس لیے غلط ریفنڈ کلیمز چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے زور دیا کہ حقیقی شکایات کا ازالہ ضرور ہونا چاہیے، تاہم ہر شکایت کی منصفانہ اور مؤثر جانچ بھی ضروری ہے۔
گلف نیوز کے مطابق ڈیلیوری پلیٹ فارم طلبات (Talabat) نے کیفے سے رابطہ کیا ہے اور معاملے کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ دوسری جانب، اے آئی سے تصویر تیار کیے جانے اور اسے دانستہ طور پر ریفنڈ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ واقعہ ڈیجیٹل دور میں صارفین کی شکایات کی تصدیق اور چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کے لیے جدید نظام کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔





