دبئی (جانب منزل نیوز) دانت پیسنے، جبڑے کے پٹھوں میں تناؤ اور مسوڑھوں کی بیماری کا سر درد اور مائیگرین سے ممکنہ تعلق طبی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دندان سازوں کے مطابق منہ اور دانتوں کے بعض مسائل سر اور چہرے میں درد پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ہر مائیگرین کو دانتوں کی بیماری کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق منہ میں موجود بیکٹیریا، مسوڑھوں کی سوزش اور جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عوامل کا مائیگرین سے تعلق جاننے کے لیے تحقیق جاری ہے۔ 2025 کی ایک تحقیق میں مائیگرین کے مریضوں اور صحت مند افراد کے منہ میں موجود بیکٹیریا کے درمیان فرق دیکھا گیا، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیکٹیریا براہِ راست مائیگرین کا سبب بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے میں مسوڑھوں کی بیماری پیریوڈونٹائٹس اور مائیگرین کے درمیان شماریاتی تعلق سامنے آیا۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ تعلق بیماری کے براہِ راست سبب ہونے یا مسوڑھوں کا علاج کرنے سے مائیگرین کے دورے کم ہونے کا حتمی ثبوت نہیں۔
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی، تمباکو نوشی اور دیگر طبی عوامل منہ کی صحت اور سر درد دونوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
نیند کے دوران دانت بھینچنے یا پیسنے کی عادت کو برکسزم کہا جاتا ہے۔ اس سے جبڑے کے پٹھوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور صبح اٹھنے پر سر درد، جبڑے میں درد یا دانتوں کے گھسنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
دانت میں مسلسل درد، گرم یا ٹھنڈی اشیا سے حساسیت، مسوڑھوں سے خون آنا اور چبانے کے دوران تکلیف بھی دانتوں کے مسائل کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات ان مسائل سے پیدا ہونے والا درد کنپٹیوں اور پیشانی تک محسوس ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر چبانے، دانت پر دباؤ ڈالنے یا جبڑا حرکت دینے سے درد بڑھتا ہے تو اس کی وجہ دانتوں یا جبڑے کا مسئلہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب مائیگرین میں متلی، روشنی اور آواز سے حساسیت اور جسمانی سرگرمی کے دوران درد میں اضافے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
تاہم علامات ایک دوسرے سے مل سکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر یا دندان ساز سے معائنہ ضروری ہے۔ بار بار ہونے والے سر درد کی شدت، دورانیے، نیند اور جبڑے کی تکلیف کا ریکارڈ رکھنا بھی تشخیص میں مدد دے سکتا ہے۔
دندان ساز دن میں دو مرتبہ فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنے، روزانہ فلاس استعمال کرنے، میٹھی اشیا محدود رکھنے اور باقاعدگی سے دانتوں کا معائنہ کرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق منہ کی اچھی صفائی اور مسوڑھوں کی بیماری کا علاج دانتوں کی صحت کے لیے ضروری ہے، لیکن فی الحال یہ ثابت نہیں کہ ان اقدامات سے مائیگرین کے دورے براہِ راست روکے جا سکتے ہیں۔ بار بار یا بڑھتے ہوئے سر درد پر طبی مشورہ لینا چاہیے، جبکہ اچانک انتہائی شدید سر درد یا نئی اعصابی علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔





