کراچی (جانب منزل نیوز) پاکستان کی مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران معاشی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، ترسیلاتِ زر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سمیت متعدد اہم معاشی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں میں بحالی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اصلاحات کے اقدامات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ پہلی سہ ماہی کے معاشی کارکردگی، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے اسکورکارڈ کے مطابق جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر سالانہ بنیاد پر 52 فیصد اضافے کے بعد 21.5 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔
اس دوران مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے سے 11.2 ارب ڈالر، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 14 فیصد اضافے سے 10.9 ارب ڈالر اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے سے 72 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔اسکورکارڈ کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خالص بہاو 3.65 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے ملک کی درجہ بندی بی کیٹیگری میں کر دی ہے اور تینوں کا آوٹ لک مستحکم ہے جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے بارے میں اعتماد کی بحالی کی عکاسی ہورہی ہے۔ سکورکارڈ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا کی برآمدات 8 فیصد اضافے سے 8.5 ارب ڈالر رہیں جبکہ ستمبر 2026 میں اشیا کی برآمدات 20 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
خدمات کی برآمدات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 2.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات 18 فیصد اضافے سے 1.25 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ ستمبر 2026 میں آئی ٹی برآمدات تاریخ کی دوسری بلند ترین ماہانہ سطح پر رہیں۔ فری لانسرز کی برآمدی آمدن 46 فیصد اضافے سے 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جو ستمبر میں تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح تھی،بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 14 فیصد اضافے سے 10.9 ارب ڈالر رہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور یورپی یونین ترسیلاتِ زر کے نمایاں ذرائع رہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاونٹس میں مجموعی رقوم کی آمد 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیاد پر 28 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ان اکانٹس کی تعداد 9 لاکھ 75 ہزار 600 سے تجاوز کر گئی۔ اس دوران جاری کھاتے کا خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے سے زیادہ ہے۔
تاہم اسکورکارڈ کے مطابق جاری کھاتے کا خسارہ متوقع اندازوں کے مطابق رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر سے تین ماہ سے زائد کی درآمدات کی ادائیگی ممکن ہے جبکہ گزشتہ سال درآمدی کوریج 2.2 ماہ تھی۔ درآمدی کوریج میں سالانہ بنیاد پر 37 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی، جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں سالانہ بنیاد پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سکورکارڈ کے مطابق پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے سے 72 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ غیر ملکی نجی سرمایہ کاری 44 فیصد اضافے سے 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ کے حوالے سے موڈیز نے پاکستان کی درجہ بندی دو درجے بہتر کرکے Caa1 سے B3 کر دی اور آٹ لک مستحکم رکھا۔ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی، جبکہ فچ نے B- کی درجہ بندی مستحکم آوٹ لک کے ساتھ برقرار رکھی اس طرح تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی بی کیٹیگری میں آ گئی ہے۔
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت ( کے چوتھے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تیسرے جائزے پر سٹاف لیول معاہدہ بھی طے پا گیا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو مزید 1.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ دستیاب ہو سکے گی، آئی ایم ایف نے پروگرام پر عمل درآمد کو مجموعی طور پر درست سمت میں قرار دیا ہے۔۔ اسکورکارڈ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایکویٹی سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 55 فیصد اضافہ ہے۔ ستمبر 2026 میں 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار اکاونٹس کھولے گئے، جو کسی ایک ماہ میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین تعداد ہے۔ نئے سرمایہ کاروں میں جنریشن زی اور ملینیلز کا حصہ 85 فیصد رہا،پہلی سہ ماہی میں چار ابتدائی عوامی پیشکشیں ( (آئی پی اوز) سامنے آئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں ایک آئی پی او ہوا تھا۔ آئی پی اوز کے ذریعے 4.6 ارب روپے جمع کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہیں۔
اسکورکارڈ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پہلی سہ ماہی کے دوران 3.1 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں، جو سالانہ بنیاد پر 7 فیصد زیادہ ہیں اور اس طرح پہلی سہ ماہی کا ہدف عبور کر لیا گیا۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 57 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ستمبر 2026 تک پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رہا، جو جون 2024 میں ریکارڈ کی گئی 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اگست 2026 تک مرکزی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 86 ٹریلین روپے رہا، جو جون کے مقابلے میں 714 ارب روپے کم ہے۔ مرکزی حکومت کے اندرونی قرضوں میں 684 ارب روپے کمی ہوئی اور یہ 58.8 ٹریلین روپے رہ گئے، جبکہ بیرونی قرضہ 98.2 ارب ڈالر پر مستحکم رہا۔مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب مالی سال 2025-26 میں 68 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ تناسب 75 فیصد تھا۔
اسکورکارڈ کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 1.85 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس نمو میں گارمنٹس، آٹوموبائل، پیٹرولیم مصنوعات اور ٹرانسپورٹ آلات نے مثبت کردار ادا کیا۔ گارمنٹس کا مجموعی نمو میں حصہ 2.9 فیصد پوائنٹس رہا، جبکہ آٹوموبائل اور پیٹرولیم مصنوعات کا حصہ 1.2، 1.2 فیصد پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا،فرنیچر، تمباکو، ٹرانسپورٹ آلات، برقی آلات اور سیمنٹ کے شعبوں نے بھی بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافے میں مثبت کردار ادا کیا۔معاشی سرگرمیوں کے دیگر اشاریوں کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 6 فیصد، سیمنٹ کی فروخت میں 4 فیصد اور کھاد کی فروخت میں 2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی اور اگست کے دوران موبائل فونز کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسکورکارڈ کے مطابق ستمبر 2026 میں نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضوں کا حجم 11.28 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیاد پر 16.6 فیصد زیادہ ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی 66 فیصد اضافے سے 1.14 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، جبکہ ہاسنگ فنانس میں 71.9 فیصد اضافہ ہوا اور اس کا حجم 365 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ تعمیراتی شعبے کے قرضے 6.5 فیصد اضافے سے 227 ارب روپے اور آٹو فنانسنگ 33.6 فیصد اضافے سے 407 ارب روپے ہو گئی۔،زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی 30.9 فیصد اضافے سے 709 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کے قرضے 12.3 فیصد اضافے سے 5.89 ٹریلین روپے ہو گئے،صارفین کے قرضوں میں 34.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 1.29 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ ذاتی قرضوں کا حجم 14.3 فیصد اضافے سے 301 ارب روپے ہو گیا۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران سرکاری اداروں کی نجکاری اور تنظیم نو کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بجلی، ہوا بازی، مالیاتی شعبے اور دیگر اداروں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر کام جاری رکھا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے معاملات مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ادارے بعد از لین دین کے مرحلے میں ہیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی نجکاری کے پہلے مرحلے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے نمایاں دلچسپی ظاہر کی۔
ان تینوں کمپنیوں کے لیے مجموعی طور پر 29 سرمایہ کار پری کوالیفائی ہوئے، جن میں فیسکو کے لیے 10، گیپکو کے لیے 9 اور آئیسکو کے لیے 10 سرمایہ کار شامل ہیں۔ ان سرمایہ کاروں کی تفصیلی جانچ پڑتال جاری ہے،اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی آٹ سورسنگ اور متعلقہ سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے ان منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ہاس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری کے اقدامات میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ اسکورکارڈ کے مطابق حکومت کے مالیاتی شمولیت کے پروگراموں کے تحت گھروں، زراعت اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں اور فنانسنگ کی فراہمی میں پیش رفت ہوئی ہے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 426 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کی گئی، جس میں سے 76 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ زرخیز ای پروگرام کے تحت 7.87 ارب روپے کی فنانسنگ منظور ہوئی، جبکہ 2.14 ارب روپے جاری کیے گئے الیکٹرک موبیلٹی پروگرام کے تحت 98 کروڑ 60 لاکھ روپے کی فنانسنگ جاری کی گئی اور اس پروگرام کے تحت 2 ہزار 816 گاڑیاں فراہم کی گئیں اس کے علاوہ علاقائی تنازع کے دوران ہدفی ایندھن ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد براہِ راست مستفید ہوئے۔
اس پروگرام کے تحت 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد استعمال ہوئے۔ یہ سہولت موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مختص تھی ۔پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، کاروباری رجسٹریشن اور ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری رہے۔ اسکورکارڈ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں تعداد کے لحاظ سے 92 فیصد خوردہ ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی تعداد 13.2 ارب رہی، جو سالانہ بنیاد پر 65 فیصد اضافہ ہے،فعال ڈیجیٹل تاجروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی اور ڈیجیٹل مرچنٹ نیٹ ورک میں چار گنا توسیع ہوئی۔ راست اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام کو ملک بھر میں پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی ادائیگیوں کی وصولی میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ 75 فیصد تک پہنچ گیا،رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے الیکٹرانک انوائسنگ کے نظام پر عمل درآمد جاری ہے۔
ٹیکس معاملات کی ڈیجیٹل اور خطرات کی بنیاد پر جانچ کے لیے نیشنل فیس لیس سینٹر فعال کیا گیا ہے، جبکہ پوائنٹ آف سیل نظام سے 13 ہزار 900 سے زائد خوردہ فروش اور 37 ہزار 900 سے زائد شاخیں منسلک ہو چکی ہیں،ٹیکس انتظامیہ کو جدید بنانے کے لیے آئی آر آئی ایس 3.0، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ پیداواری نگرانی اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے اقدامات جاری ہیں ،پہلی سہ ماہی کے دوران 15 ہزار 440 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جو سالانہ بنیاد پر 45 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 99.9 فیصد کمپنیوں کی رجسٹریشن ڈیجیٹل ذرائع سے مکمل کی گئی۔اسکورکارڈ کے مطابق پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی میں بیرونی شعبے کے استحکام، سرمایہ کاری، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل اصلاحات کے متعدد اشاریوں میں بہتری سامنے آئی ہے۔ آئندہ مرحلے میں معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے سے منسلک کرنا اصلاحاتی عمل کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔





