مظفرآباد (جانب منزل نیوز) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی قوم کی امنگوں کو جبر اور تشدد کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ریلی نکالی گئی، جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نمائندوں، دفتر خارجہ کے حکام اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج سرینگر میں داخل ہوئی، جس کے بعد جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک طویل اور دردناک باب شروع ہوا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کا عزم اور استقامت برقرار ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کشمیری نسلوں کی قربانیاں انصاف، امن اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے لیے جاری جدوجہد کی عکاس ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جموں و کشمیر تنازع کے حل کے لیے متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے، جبکہ پاکستان اس تنازع کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کے کردار کو اہم قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بعد ازاں کی گئی قانون سازی، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں، آبادیاتی و سیاسی تبدیلیوں اور کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی نے عوام میں عدم تحفظ اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے مصائب کے خاتمے اور ان کے بنیادی حقوق کے احترام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان ہر متعلقہ بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔





