پشاور (جانب منزل نیوز) پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع کے متعدد سرکاری اسکولوں کے کلاس رومز اور عمارتیں خستہ حال پائی گئی ہیں۔
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کی بنیاد پر اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے اور مختلف اضلاع سے ابتدائی رپورٹس موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
محکمے کی رپورٹ کے مطابق بونیر کے بدال سرکاری اسکول کے 6 میں سے 4 کلاس رومز خستہ حال ہیں، جبکہ چارسدہ کے 3 سرکاری اسکولوں کے 20 میں سے 15 کلاس رومز کو بھی ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوئر دیر میں لڑکوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں ناقابل استعمال ہیں۔ کرک کے بمی بانڈہ سرکاری اسکول کے دونوں کلاس رومز اور لکی مروت کے 2 سرکاری اسکولوں کے 5 میں سے 4 کلاس رومز کی حالت بھی خراب ہے۔
اسی طرح مردان کے 2 سرکاری اسکولوں کے 15 میں سے 4 کلاس رومز خستہ حال پائے گئے، ڈیرہ اسماعیل خان کے 2 سرکاری اسکولوں کے تمام 25 کلاس رومز جبکہ ہری پور میں لڑکیوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں بھی مکمل خستہ حال قرار دی گئی ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق خستہ حال اسکولوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز کے ذریعے جمع کی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ خطرناک اور بوسیدہ اسکولوں کی ویڈیوز حکام تک پہنچائیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
دوسری جانب دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں 32 بچے اور 2 خواتین اساتذہ جاں بحق جبکہ 40 سے زائد بچے زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔
واقعے کی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچوں نے عمارت کی بوسیدہ دیواروں اور چھتوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم ان کی شکایات پر توجہ نہیں دی گئی۔ مقدمے میں اسکول کے مالکان، شریک مالکان اور ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جبکہ اسکول کے مالک کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں حفاظتی معائنے کا فیصلہ کیا اور ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی کے انکشافات نے بچوں کی جانوں کے تحفظ اور اسکولوں میں حفاظتی انتظامات کی مؤثریت سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔





