دبئی (جانب منزل نیوز)دبئی کی معروف شخصیت سہیل محمد الزرعونی کی نجی مجلس میں پروقار عشائیے اور شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں اور بھارت سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعراء، ادیبوں، دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ محفل کی صدارت سہیل محمد الزرعونی نے کی، معروف بھارتی معلم اور موٹیویشنل اسپیکر اَودھ اوجھا مہمان خصوصی تھے۔
قریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کی سعادت خرم شہزاد نے حاصل کی۔ معروف شاعر تابش زیدی نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ علمی و ادبی محافل دبئی میں اردو ادب کے فروغ اور فکری شعور کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
شارجہ سے تعلق رکھنے والے شاعر احیاء الاسلام بھوجپوری نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور شرکاء کا تعارف کرایا۔ تقریب کے انعقاد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی فورم کے انجم فرقان اور محمد سعید نے بھی تعاون کیا، جبکہ فراز احمد صدیقی اور سید سلیم اختر سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
مشاعرے میں عدنان منور، ملک محمد عرفان، سید سروش آصف، شاداب الفت، احیاء الاسلام بھوجپوری اور تابش زیدی نے اپنا کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور پذیرائی دی۔ شعراء نے محبت، ہجرت، معاشرتی رویوں اور انسانی رشتوں سمیت مختلف موضوعات پر اشعار سنائے۔ محفل میں متحدہ عرب امارات سے محبت اور وابستگی کے اظہار پر مبنی خصوصی کلام بھی پیش کیا گیا۔
مشاعرے کا ایک نمایاں حصہ معروف شاعر رحمان فارس کی وہ خصوصی نظم تھی جو انہوں نے میزبان اور صدرِ محفل سہیل محمد الزرعونی کی محبت اور عقیدت میں تحریر کی تھی۔ نظم میں ان کی دریا دلی، سخاوت، انسان دوستی، رواداری اور امارات میں اردو ادب کے فروغ کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
مہمان خصوصی اَودھ اوجھا نے اپنے خطاب میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا۔ تقریب کے اختتام پر شعراء نے اپنی تصانیف سہیل الزرعونی کو پیش کیں،جبکہ میزبان نے شعراء، بلال خان اور اَودھ اوجھا کو تعریفی اسناد سے نوازا۔
معروف صحافی سہیل خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی و ادبی محافل اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے سہیل الزرعونی کی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران متحدہ عرب امارات میں اردو ادب کی ترویج کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدرمحفل سہیل محمد الزرعونی نے تمام مہمانوں اور شعراء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادبی و علمی سرگرمیوں کی سرپرستی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے شرکاء سے اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ تقریب کے انتظامات میں سید افراز مسعود شاہ اور ان کی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔ ادبی محفل رات گئے تک جاری رہی، جس میں شرکاء نے بہترین مہمان نوازی اور اردو ادب کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔





