انقرہ (جانب منزل نیوز) ترکیہ نے تین سال کے دوران معیشت کا حجم 22 کھرب ڈالر تک بڑھانے، 21 لاکھ اضافی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی کی شرح کو دوبارہ سنگل ڈیجٹ تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
یہ بات ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز وزیر خزانہ و مالیات محمد شمشیک اور صدارتی حکمت عملی و بجٹ کے سربراہ ابراہیم شینل نے انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں ’’2027-2029 وسط مدتی پروگرام (ایم ٹی پی) بین الاقوامی میڈیا اجلاس‘‘ کے موقع پر غیر ملکی میڈیا نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی پائیدار اقتصادی ترقی کا ہدف رکھتی ہے جو معاشی استحکام سے ہم آہنگ ہو، پیداواری صلاحیت اور پیداوار میں اضافہ کرے اور مہنگائی کے دباؤ کا باعث نہ بنے۔توقع ہے کہ مجموعی پیداواری صلاحیت 2026 میں شرح نمو میں تقریباً 1.2 فیصد پوائنٹس اور پروگرام کے دوران ہر سال تقریباً 1.1 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالے گی۔2026 کے اختتام تک قومی آمدنی 1.8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے جبکہ فی کس آمدنی پہلی مرتبہ 20 ہزار ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔2029 تک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 2.2 ٹریلین ڈالر اور فی کس آمدنی تقریباً 25 ہزار ڈالر تک پہنچنے جبکہ اشیا ءاور خدمات کی مجموعی برآمدات بڑھ کر 450 ارب ڈالر ہونے کی توقع ہے۔
جودت یلماز نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ ترکیہ20 کھرب ڈالر کی حد عبور کرے گا۔حکومت کو توقع ہے کہ 2026 کے اختتام پر مہنگائی کی شرح 28.4 فیصد رہے گی، جو 2027 میں کم ہو کر 21 فیصد، 2028 میں 13.5 فیصد اور بالآخر 2029 میں ایک ہندسے تک آ جائے گی۔جودت یلماز نے کہا کہ مئی 2024 میں 75.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے والی مہنگائی میں واضح کمی کا رجحان شروع ہو گیا تھا، تاہم علاقائی جنگ کے باعث رسد پر پڑنے والے دباؤ نے عارضی طور پر اس بہتری کی رفتار کو سست کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگست میں سالانہ مہنگائی 31.5 فیصد رہی اور توقع ہے کہ آخری سہ ماہی میں اس میں دوبارہ کمی کا رجحان شروع ہو جائے گا۔








