ابوظہبی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں جدید طبی مہارت کا ایک اور شاندار مظاہرہ، ابوظہبی کے ماہر سرجنز نے 49 سالہ مریض کے پیٹ سے 4.4 کلوگرام وزنی نایاب کینسر کی رسولی کامیابی سے نکال لی۔ چھ گھنٹے جاری رہنے والا یہ پیچیدہ آپریشن طبی مہارت اور جدید علاج کی نمایاں مثال بن گیا۔
خلیفہ سٹی کے این ایم سی رائل اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی کثیرالشعبہ ٹیم نے 36 سینٹی میٹر طویل رسولی کو کامیابی سے نکالا، جو مریض کے پیٹ کے بیشتر حصے میں پھیل چکی تھی اور جگر، معدے، آنتوں سمیت اہم اعضا کو اپنی معمول کی جگہ سے ہٹا چکی تھی۔
آپریشن کے دوران مریض کا دایاں گردہ، ایڈرینل گلینڈ، ڈایافرام کا ایک حصہ اور دائیں جانب کی بارہویں پسلی بھی نکالنا پڑی تاکہ کینسر سے متاثرہ بافتوں کو مکمل طور پر ہٹایا جا سکے۔
سرجری کی پیچیدگی اور شدید خون بہنے کے خدشات کے باوجود ڈاکٹروں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کم سے کم خون کے ضیاع کے ساتھ مکمل ہوا اور مریض کو خون کی منتقلی کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ کینسر انتہائی نایاب ہے اور دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد میں سے صرف ایک شخص اس کا شکار ہوتا ہے۔ عموماً یہ رسولی سینے میں بنتی ہے، تاہم مریض کے پیٹ میں اس کا پھیلاؤ انتہائی غیر معمولی تھا۔
ماہر سرجن ڈاکٹر حسن البیرم کے مطابق رسولی کا غیر معمولی حجم اور اہم اعضا و خون کی بڑی شریانوں سے قربت آپریشن کے بڑے چیلنجز تھے، جن سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین نے جامع منصوبہ بندی کی۔
ابوظہبی میں ہونے والی یہ کامیاب سرجری جدید طبی سہولیات، ماہر ڈاکٹروں اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ایک اور نمایاں ثبوت ہے۔





