دبئی (جانب منزل نیوز) دبئی نے عالمی مالیاتی میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں دولت اور اثاثہ جات کے انتظام سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی، جس کے بعد دبئی عالمی سرمایہ کاری اور مالیاتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔
مرکز کی انتظامیہ کے مطابق دبئی میں قائم ان کمپنیوں کی تعداد دیگر تقابلی عالمی مالیاتی مراکز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ یہ اہم سنگِ میل دبئی فیوچر فنانس ویک کے پہلے ایڈیشن کے تیسرے روز سامنے آیا۔
دبئی کی یہ کامیابی امارات کے معاشی مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ دبئی کے معاشی ایجنڈے ڈی 33 کے تحت شہر کو دنیا کے چار بڑے عالمی مالیاتی مراکز میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
فیوچر اسلامک فنانس فورم میں 50 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ ماہرین، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اسلامی مالیات، عالمی سرمایہ کاری اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹ کے مطابق 2030 تک عالمی اسلامی مالیاتی صنعت کا حجم 9.31 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ اسلامی مالیاتی ٹیکنالوجی کا شعبہ 2026 میں 180 ارب ڈالر تک وسعت اختیار کرسکتا ہے۔
دبئی میں عالمی اداروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معروف بین الاقوامی بینک جے پی مورگن نے 2 نومبر کو ڈی آئی ایف سی میں اپنی نئی شاخ قائم کی، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 775 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔
دبئی انتظامیہ کے مطابق عالمی مہارت، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے شہر کو بین الاقوامی مالیاتی دنیا کا نمایاں مرکز بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔





