لندن (جانب منزل نیوز) سعودی عرب نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود سیاحت کے شعبے میں ترقی کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے اپنی مضبوط معاشی حکمت عملی کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت بحران آنے سے پہلے پیدا کی جاتی ہے، سعودی سیاحت نے اپنی مضبوط بنیادوں کا عملی ثبوت دیا ہے۔
لندن میں ورلڈ ٹریول مارکیٹ (WTM) کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے احمد الخطیب نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں سعودی عرب نے تقریباً 6 کروڑ 12 لاکھ سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں سیاحتی اخراجات 151.9 ارب سعودی ریال ریکارڈ کیے گئے۔
سعودی وزیر سیاحت نے واضح کیا کہ عالمی حالات اور معاشی دباؤ کے باوجود 2030 تک سالانہ 15 کروڑ سیاحوں کی آمد کا ہدف برقرار ہے۔ مملکت سیاحت کو معیشت کے اہم ستون کے طور پر مزید مستحکم کرنے اور عالمی سیاحوں کے لیے اپنی کشش بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق علاقائی کشیدگی، فضائی آپریشنز میں رکاوٹوں اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عارضی بندش کے باعث سفری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض عالمی فضائی کمپنیوں نے پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں اور منسوخیاں کیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے 2026 میں سعودی معیشت کے سکڑنے کی پیش گوئی کے باوجود سعودی عرب نے طویل المدتی سیاحتی وژن پر توجہ برقرار رکھی ہے۔ سیاحت میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی روابط کے فروغ کے ذریعے مملکت عالمی سیاحتی نقشے پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔





