لاہور (جانب منزل نیوز) پاکستان سپر لیگ کے 12ویں سیزن کی تیاریاں زور پکڑنے لگیں، ایچ بی ایل پی ایس ایل آپریشنز ورکشاپ میں آٹھوں فرنچائزز نے نئے سیزن کے لیے اہم فیصلوں پر اتفاق کر لیا۔ کھلاڑیوں کی ریٹینشن، پلیئر آکشن اور ٹیموں کے اسکواڈز سے متعلق قوانین کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ورکشاپ میں سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑی برقرار رکھ سکے گی، تاہم ساتوں کھلاڑی ریٹین کرنے کا آپشن استعمال کرنے والی ٹیم کو گزشتہ آکشن کا اپنا سب سے مہنگا کھلاڑی لازمی ریلیز کرنا ہوگا۔
فرنچائزز کے لیے بنیادی سیلری کیپ 45 کروڑ پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 1.6 ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ ڈائریکٹ سائننگ کرنے یا گزشتہ سیزن کی ڈائریکٹ سائننگ برقرار رکھنے کی صورت میں سیلری کیپ بڑھ کر 50 کروڑ 50 لاکھ روپے ہو جائے گی۔
پلیئر آکشن میں ہر ٹیم کے لیے کم از کم 36 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ ڈائریکٹ سائننگ کا مرحلہ 23 نومبر تک جاری رہے گا۔ فرنچائزز صرف ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کو ڈائریکٹ سائن کر سکیں گی جنہوں نے گزشتہ دو پی ایس ایل سیزنز میں شرکت نہ کی ہو۔
کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی آخری تاریخ 13 جنوری مقرر کی گئی ہے، جس کا مقصد نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے مقامی کھلاڑیوں کو بھی پی ایس ایل فرنچائزز کی توجہ حاصل کرنے کا موقع دینا ہے۔
سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر کی سربراہی میں ہونے والی ورکشاپ میں پلیئر آکشن کے قواعد و ضوابط کے ہر نکتے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سلمان نصیر کے مطابق تمام فرنچائزز نے بھرپور تعاون کیا اور بالآخر آٹھوں ٹیموں نے متفقہ طور پر نئے قوانین کی منظوری دے دی۔
پی ایس ایل 12 کے لیے ہونے والے یہ فیصلے نئے سیزن میں کھلاڑیوں کی انتخابی حکمت عملی، ٹیموں کی تشکیل اور نیلامی کے مقابلے کو مزید دلچسپ بنانے کی بنیاد بنیں گے۔





