پیرس (جانب منزل نیوز) عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے فرانس میں شمونڈا وائرس (Shamonda Virus) سے انسان کے متاثر ہونے کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ شخص انتقال کر گیا، تاہم حکام کے مطابق فی الحال عام آبادی میں بڑے پیمانے پر خطرے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق شمونڈا وائرس بنیادی طور پر جانوروں، خصوصاً گائے، بھیڑ، بکریوں اور گھوڑوں میں پایا جاتا ہے۔ فرانس میں انسانی انفیکشن کا کیس سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے وائرس کے ممکنہ اثرات اور مریض کی موت میں اس کے کردار کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص پہلے ہی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھا اور اس کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور تھا۔ یورپی صحت کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا وائرس براہِ راست موت کا سبب بنا یا اس میں کسی حد تک کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ وائرس عموماً Culicoides نامی انتہائی چھوٹے کیڑے کے کاٹنے سے جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔ متاثرہ جانوروں میں بخار، اسہال اور دودھ کی پیداوار میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
فی الحال شمونڈا وائرس کے لیے کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے، جبکہ یورپ میں جانوروں کے اندر وائرس کی موجودگی اور اس کے پھیلاؤ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے وسیع پیمانے پر خطرے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم وائرس کے انسانی کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔





