ابوظہبی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات نے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی پہچان مزید مضبوط بنانے کے لیے اے آئی کے شعبے میں بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ جدید کمپیوٹنگ مراکز، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک اور سرکاری ملازمین کی تربیت کے ذریعے یو اے ای مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ابوظہبی میں مجوزہ اسٹارگیٹ یو اے ای منصوبہ پانچ گیگاواٹ کے وسیع تر یو اے ای۔امریکہ اے آئی کیمپس کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں جی 42، اوپن اے آئی، اوریکل اور این ویڈیا جیسے اہم ٹیکنالوجی ادارے شریک ہیں۔ منصوبے کے پہلے 200 میگاواٹ مرحلے کی تکمیل 2026 میں متوقع بتائی گئی ہے۔
80 ہزار سرکاری ملازمین کو جدید اے آئی مہارتوں سے آراستہ کرنے کا منصوبہ
یو اے ای کی ٹیکنالوجی حکمت عملی کا اہم حصہ انسانی وسائل کی تربیت بھی ہے۔ وفاقی حکومت محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تعاون سے تقریباً 80 ہزار سرکاری ملازمین کی اے آئی سے متعلق مہارتیں بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو حکومتی امور اور عوامی خدمات میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2025 کے دوران یو اے ای میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی شرح میں 121 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو متعلقہ جائزے میں شامل ممالک میں سب سے تیز رفتار اضافہ تھا۔
عالمی شراکت داریاں، مستقبل کی معیشت پر توجہ
متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، تحقیق اور جدید کمپیوٹنگ صلاحیت کو ترقی کا اہم ذریعہ بنا رہا ہے۔ سنگاپور کے ساتھ بھی اے آئی، تربیت اور حکومتی صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت میں مستقل کامیابی کے لیے صرف جدید کمپیوٹر مراکز کافی نہیں، بلکہ تربیت یافتہ افراد، مضبوط ڈیٹا نظام اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ یو اے ای کی حکمت عملی ان تمام پہلوؤں کو یکجا کرکے مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بنیاد مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔





