شارجہ (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں محفوظ ڈیجیٹل ماحول، عوامی اعتماد اور معاشرتی استحکام کے فروغ کے لیے شارجہ پولیس نے سوشل میڈیا صارفین کو جھوٹی خبروں اور غیر مصدقہ معلومات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ آن لائن افواہیں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم یا اس سے زائد جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شارجہ پولیس ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری آگاہی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات تیزی سے پھیل کر عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا کر سکتی ہیں۔ ویڈیو میں صنعتی علاقوں میں آتش زدگی کے واقعات کی جعلی یا پرانی فوٹیج کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں، جنہیں بعض افراد تصدیق کیے بغیر واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کر دیتے ہیں۔
شارجہ پولیس کے شعبہ آگاہی کے ڈائریکٹر میجر سعود الشیبا نے کہا کہ ایک پیغام بھی سینکڑوں افراد میں تشویش پیدا کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے معاشرتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے ہر شہری کو ڈیجیٹل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پولیس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وفاقی فرمان قانون نمبر 34، سال 2021، برائے انسداد افواہوں اور سائبر جرائم کے آرٹیکل 52 کے تحت الیکٹرانک پلیٹ فارمز پر جھوٹی خبریں، افواہیں اور گمراہ کن معلومات شائع کرنے یا دوبارہ پھیلانے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم سے شروع ہونے والے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
شارجہ پولیس نے شہریوں اور رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مستند معلومات کے لیے سرکاری اداروں اور معتبر خبر رساں اداروں سے رجوع کریں۔ کسی بھی خبر، ویڈیو یا پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کے ماخذ اور صداقت کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
حکام کے مطابق ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال، درست معلومات کی فراہمی اور قانون کی پاسداری ایک محفوظ اور بااعتماد ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں کی تشہیر سے گریز کریں اور آن لائن پلیٹ فارمز کو مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کریں۔





