واشنگٹن (جانب منزل نیوز) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے پرائیویسی خدشات کے باعث اپنے مصنوعی ذہانت کے معاون ایجنٹ میوز میں چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کر دیا۔
سائبر سیکیورٹی فرم کلاروک کے محققین نے انکشاف کیا تھا کہ میوز کے ذریعے شیئر کی گئی ہزاروں گفتگوؤں کے لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز میں تلاش کیے جا سکتے تھے، جس سے صارفین کی حساس ذاتی اور کاروباری معلومات افشا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق محققین نے غیر فعال ڈی این ایس ریکارڈز کی مدد سے 6 ہزار 800 سے زائد شیئر شدہ لنکس کی نشان دہی کی۔ ان لنکس کے ذریعے کئی سو گفتگوؤں تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق جائزے، قرض کی درخواستیں، بینک فراڈ سے متعلق انتباہات اور ملازمت کے انٹرویوز کے خفیہ نوٹس شامل تھے۔
محققین کے مطابق یہ خامی میوز کے یو آر ایل ڈیزائن میں موجود تھی، جس میں گفتگو کے عنوانات اور خودکار طور پر تیار کیے گئے شناختی کوڈ شامل ہوتے تھے۔ ان لنکس کے عوامی ڈیٹا بیسز میں ریکارڈ ہونے کے باعث دوسرے افراد بھی متعلقہ گفتگوؤں تک رسائی حاصل کر سکتے تھے، حتیٰ کہ اکاؤنٹ میں سائن اِن کیے بغیر بھی چیٹس دیکھی جا سکتی تھیں۔
اس انکشاف کے بعد میٹا نے چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں ڈیٹا کے تحفظ اور صارفین کی پرائیویسی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹولز پر حساس ذاتی، مالی یا کاروباری معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، خصوصاً اس وقت جب گفتگو کے لنکس دوسروں کے ساتھ شیئر کیے جا رہے ہوں۔





