دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات اور یونان کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے 12.75 ارب یورو مالیت کے 18 معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی شراکت داریوں کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ابوظہبی نے یونان میں مزید 15 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاہدوں کا اعلان یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں منعقدہ یو اے ای۔یونان اسٹریٹجک فورم کے موقع پر کیا گیا۔ فورم میں ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے شرکت کی۔
ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق اضافی سرمایہ کاری کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مشترکہ سرمایہ کاری کے اقدام کو مزید وسعت دے گا۔ سال 2022 میں دونوں ممالک نے مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت 4 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا عزم کیا تھا، تاہم نئی سرمایہ کاری کے مخصوص منصوبوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور یونانی وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں توانائی، بنیادی ڈھانچے اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی قابلِ تجدید توانائی کمپنی مصدر بھی یونان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے 2024 میں یونانی ادارے ٹیرنا انرجی کے 70 فیصد حصص خریدے تھے اور 2025 میں اس کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس وقت ٹیرنا انرجی کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو 3.2 ارب یورو بتائی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات اور یونان کے درمیان ہونے والے نئے معاہدے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور توانائی، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔





