اسلام آباد (جانب منزل نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کیا گیا۔ دہشت گردی کے معاملے پر اسد قیصر نے بھی ساتھ دینے اور ایمرجنسی کی حمایت کا عندیہ دیا تھا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مشاورت کے بعد ہر آئینی شق کا جائزہ لیا۔ اپوزیشن کو پیشکش ہے کہ گورنر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی کمیٹی بنا لی جائے جو نشاندہی کرے کہ کس آئینی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز ہوا تو اسد قیصر نے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرنے کی ذمہ داری بھی لی۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایمرجنسی کی حمایت پر اتفاق رائے کی بات ہوئی، تاہم تجاویز کے چھ مسودوں کے بعد معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جائے، لیکن حالات کے باعث یہ اقدامات ضروری ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور وفاق کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے بعض افراد کے طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے تھے، جن کے شواہد فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کی بڑی تعداد افغانستان سے آ رہی ہے اور حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
محسن نقوی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کی جائیں۔





