اسلام آباد (جانب منزل نیوز) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہو جائے گی، جبکہ حکومت کی واپسی میں ایک سے دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات آئین و قانون کے مطابق ہیں اور وفاقی حکومت صوبے کی ایڈوائزری کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم معاہدے پر دستخط کے مرحلے پر مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق سیاسی مصالحت کے لیے برابری کی بنیاد پر معاملات آگے بڑھانا ضروری ہے، لیکن اب دہشت گردی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
نائب وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ دیا گیا، جس کی مد میں اب تک 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور صوبے میں انسداد دہشت گردی کے اداروں، فرانزک لیبارٹری اور قانون نافذ کرنے والے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے
اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیاسی مصالحت کے لیے بعض تجاویز پیش کی تھیں، جن میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی، دہشت گردی کی واضح مذمت اور اس کے خلاف وفاق کے ساتھ مل کر کارروائی کرنا شامل تھا، تاہم ان کے بقول ان تجاویز پر مثبت جواب نہیں ملا۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو پر حملوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی ایڈوائزری کونسل میں پیشہ ور اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ صوبے کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکے۔ وفاقی حکومت اس کونسل کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
اسحاق ڈار کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی چھ ماہ بعد بحال ہو جائے گی، تاہم حکومت کی واپسی کے لیے ایک سے دو سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک زمینی حقائق بہتر نہیں ہوتے اور عوامی وسائل درست طور پر عوام پر خرچ نہیں کیے جاتے، اس وقت تک حالات میں بہتری ضروری ہے۔





