پشاور (جانب منزل نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے کی پالیسی اسلام آباد سے بنے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں فیصل کریم کنڈی نے امن و امان کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے، پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل فراہم کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے بارہ اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی کیے جائیں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کے نفاذ کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور حکومتی ترجیحات سے متعلق اہم اعلانات کیے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے اور کسی کو صوبے میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
گورنر نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آخری اقدام ہوتا ہے، تاہم صوبے میں گزشتہ تیرہ برس کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں وقت لگے گا۔ ان کے مطابق تین ماہ میں اقدامات کے نتائج اور تبدیلی نمایاں ہونا شروع ہو جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد بڑھانے کو اہم ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو وسائل فراہم کیے جائیں گے اور سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔
گورنر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس کے لیے دس گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ صوبے کے بارہ اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات مؤثر بنانے اور شہدا کے خاندانوں کی معاونت کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ شہدا کے بچوں کی سرپرستی کی جائے گی اور ان کے اہل خانہ سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں۔
صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قانون ہاتھ میں لینے والوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کیا جاتا تھا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ صوبے کے مالی حقوق کا معاملہ وفاق کے سامنے اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم بھی جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی صورتحال کے باعث تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں دور کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وہ جج نہیں ہیں کہ فیصلہ کریں کون گرفتار ہوگا اور کون رہا، جن افراد کے خلاف مقدمات ہوں گے انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ جن کے خلاف مقدمات نہیں ہوں گے انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی اور عملی اقدامات ہی ان کی پالیسی کا جواب ہوں گے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد نئی انتظامی حکمت عملی، سکیورٹی اقدامات اور وفاق کے ساتھ رابطہ کاری کو آئندہ دنوں میں اہمیت حاصل رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کرتی ہے۔





