واشنگٹن (جانب منزل نیوز) امریکی محکمۂ دفاع نے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 13 اہلکاروں کے قاتل سابق میجر نڈال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشریات کے ذریعے دکھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سزائے موت کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ نڈال حسن کو فوجی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزا دی جائے گی۔ وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دنیا کو سنگین جرائم کے خوفناک نتائج دکھانا ہے۔ دوسری جانب دفاعی وکلا نے اس فیصلے کو جدید دور میں بے مثال اور قانونی طور پر متنازع قرار دیا ہے۔
سال 2009 میں ٹیکسٹاس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو قتل اور 32 کو زخمی کرنے والے سابق ملٹری ڈاکٹر میجر نڈال حسن کو سزائے موت دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پینٹاگون ترجمان شان پارنیل کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نڈال حسن کی سزائے موت کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا کہ نڈال حسن کی سزائے موت کی کارروائی کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ ہیگستھ کے مطابق عوام کو یہ دیکھنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ مجرم کو فوجی فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
امریکا میں 60 برس سے زائد عرصے بعد یہ پہلی ملٹری ایگزیکیوشن ہوگی، جبکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فائرنگ سکواڈ کا یہ پہلا ملٹری استعمال ہے۔ دوسری جانب وکیل جان ملز سمیت قانونی ماہرین نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے موت کو پبلک براڈکاسٹ کرنا قانونی طور پر غیر واضح اور متنازع اقدام ہے۔





