اسلام آباد (جانب منزل نیوز)سرکاری افسران اپنی اور اپنے اہل خانہ کی دوہری یا غیر ملکی شہریت کے حوالے سے فوری ڈیکلریشن جمع کرائیں، بصورتِ دیگر انہیں سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مقررہ ڈیڈ لائن تک معلومات فراہم نہ کرنے یا جھوٹا ڈیکلریشن دینے والے افسران کے خلاف ‘سول سرونٹس رولز 2020’ کے تحت مس کنڈکٹ کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سول سرونٹس رولز 2026′ کے مطابق ان تفصیلات کی فراہمی کی آخری تاریخ یکم ستمبر تھی، تاہم پولیس سروس اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سمیت کئی اہم محکموں کے افسران نے تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔
نئے بھرتی ہونے والے ملازمین پر لازم ہے کہ وہ جوائننگ کے وقت ہی اپنی اور زیرِ کفالت افراد کی شہریت اور غیر ملکی پاسپورٹ کا ریکارڈ متعلقہ محکمے کو جمع کرائیں۔ معلومات چھپانے یا غلط بیانی کی صورت میں ملازمت فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔
مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک کی شہریت یا پاسپورٹ کے لیے درخواست دینا قطعی ممنوع ہے۔ مزید برآں، تمام افسران پر لازم ہے کہ وہ ہر سال اپنے شہریت کے سٹیٹس کی تجدید کریں۔
کسی غیر ملکی شہریت کے حامل فرد سے شادی کرنے والے افسران کے معاملات بدستور ‘گورنمنٹ سرونٹس رولز 1962’ کے تحت ہی نمٹائے جائیں گے








