ابوظہبی (جانب منزل نیوز) غزہ میں جہاں مشکلات اور آزمائشوں نے زندگی کو متاثر کر رکھا ہے، وہیں متحدہ عرب امارات نے خوشیوں کے رنگ بکھیرتے ہوئے 500 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کا شاندار اہتمام کیا۔ اس منفرد تقریب نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں اور امید و یکجہتی کا خوبصورت پیغام دیا۔
6 نومبر کو غزہ کے ساحلی علاقے میں میری ٹائم کلب کے مقام پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں دلہا دلہن کے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ اماراتی تعاون سے منعقدہ یہ تقریب آپریشن الفارس الشهم 3 کا حصہ تھی، جس نے متاثرہ خاندانوں کے لیے خوشیوں کا ایک یادگار لمحہ تخلیق کیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ عالمی حالات اور بدلتی ترجیحات کے باوجود غزہ کے عوام امارات کی انسانی ہمدردی کی ترجیحات میں شامل رہیں گے۔ ان کے مطابق انسانی خدمت کا مقصد صرف مشکلات کم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں اور بہتر مستقبل کی امید واپس لانا بھی ہے۔
اجتماعی شادی کی تقریب کو صقر بن محمد القاسمی فاؤنڈیشن برائے خیراتی و انسانی خدمات کا تعاون بھی حاصل رہا۔ فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل احمد صوفہ الزعابی نے نو بیاہتا جوڑوں کے لیے خوشحال اور پُرامن زندگی کی دعائیں اور نیک تمنائیں پیش کیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کا آپریشن الفارس الشهم 3 نومبر 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت غزہ میں خوراک، ادویات، رہائشی سامان اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اماراتی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مشن کے ذریعے اب تک 136 ہزار ٹن سے زائد امدادی سامان غزہ پہنچایا جا چکا ہے، جس کی مجموعی مالیت 4.16 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
غزہ میں 500 جوڑوں کی اجتماعی شادی محض ایک تقریب نہیں بلکہ انسانیت، محبت، بھائی چارے اور امید کا ایسا پیغام ہے جو مشکل حالات میں بھی زندگی کی خوشیوں کو زندہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔





