نیویارک (جانب منزل نیوز )دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس (Binance) نے 6.34 ارب ڈالر کی بڑی سائبر چوری کی تحقیقات سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے جعلی ملازمتوں اور انٹرویوز کے ذریعے کمپنی کے ملازمین کو نشانہ بنایا اور حساس داخلی نظام تک رسائی حاصل کی۔
بائنانس کے مطابق سائبر حملے سے متاثرہ اثاثوں میں سے 98 فیصد کی بحالی کمپنی نے اپنے وسائل سے مکمل کر لی ہے، جبکہ 2.85 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں تاکہ حملہ آور انہیں استعمال یا دوسری کرنسی میں تبدیل نہ کر سکیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے جون میں ایک سافٹ ویئر انجینئر کو وائرس سے متاثرہ پروگرام ڈاؤن لوڈ کروانے کے ذریعے اپنے منصوبے کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ستمبر میں ایک دوسرے انجینئر کو جعلی کمپنی کی جانب سے ملازمت اور آن لائن انٹرویو کی پیشکش کی گئی۔ انٹرویو کے دوران بھیجی گئی فائل میں نقصان دہ سافٹ ویئر موجود تھا، جس نے ہیکرز کے لیے کمپنی کے داخلی نظام تک رسائی کا راستہ ہموار کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 اکتوبر کو حملہ آوروں نے کمپنی کے اندرونی اے آئی ٹولز کی مدد سے مزید سسٹمز تک رسائی حاصل کی، جبکہ 29 اکتوبر کو نقصان دہ کوڈ فعال کرکے بڑے پیمانے پر سائبر حملہ کیا گیا۔ یہ کارروائی تقریباً چار گھنٹے جاری رہی۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس سائبر حملے کا تعلق شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز سے جوڑا ہے، تاہم شمالی کوریا نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
واقعے کے بعد عالمی کرپٹو مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔





