واشنگٹن (جانب منزل نیوز) امریکی سپریم کورٹ نے امیگریشن ججوں کو ملک بدری کے مقدمات عارضی طور پر ملتوی کرنے کا اختیار بحال کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ریاست ٹیکساس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ برقرار رہے گا۔
رائٹرز کے مطابق عدالت نےبالٹی مور سمیت تین امریکی شہروں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک قانونی تنظیم کی ہنگامی درخواست مسترد کی۔ درخواست گزاروں نے مقدمے کی سماعت جاری رہنے کے دوران اس معاہدے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی تھی، جس کے تحت امیگریشن مقدمات کو انتظامی بنیادوں پر عارضی طور پر بند کرنے کا سابقہ طریقہ ختم کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم میں فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں، جبکہ کسی جج نے بھی عوامی طور پر اس فیصلے سے اختلاف نہیں کیا۔رپورٹ کے مطابق ٹیکساس اور ٹرمپ انتظامیہ نے 22 جون کو وفاقی عدالت میں معاہدہ جمع کرایا تھا۔ اسی روز ٹیکساس نے امیگریشن عدالتوں میں رائج طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا اور وفاقی جج نے فوری طور پر معاہدے کی منظوری دے دی۔
بالٹی مور اور دیگر درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت نے اس طریقہ کار کو ختم کرانے کے لیے ٹیکساس کے ساتھ نامناسب طور پر ملی بھگت کی۔ قانونی تنظیم ڈیموکریسی فارورڈ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تحفظات کے خاتمے سے کمزور اور غیر محفوظ افراد کو ملک بدری کا زیادہ خطرہ لاحق ہو جائے گا اور ملک بھر کی برادریوں میں عوامی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے۔
امیگریشن جج کئی دہائیوں سے انتظامی بنیادوں پر بعض ملک بدری کے مقدمات کو عارضی طور پر اپنی فہرست سے خارج کرتے رہے ہیں۔ یہ طریقہ بالخصوص ایسے معاملات میں اختیار کیا جاتا تھا جہاں اسی شخص سے متعلق ویزا درخواست یا کسی فوجداری سزا کے خلاف اپیل جیسی دوسری کارروائی جاری ہو، جس کے نتیجے میں ملک بدری رک سکتی ہو۔ٹیکساس اور ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین کے برعکس حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار کے باعث قانونی حیثیت کے بغیر امریکا میں مقیم تارکین وطن غیر معینہ مدت تک ملک بدری سے بچ سکتے تھے، جو عملاً عام معافی کے مترادف تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں یہ طریقہ لاکھوں ملک بدری مقدمات میں استعمال ہوا۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں اس طریقہ کار کو باضابطہ ضابطے میں شامل کیا تھا تاکہ ججوں کو مقدمات کا مؤثر انتظام کرنے اور تارکین وطن کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔ تاہم، 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ انصاف نے اس ضابطے کے دفاع سے دستبرداری اختیار کر لی۔





