دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور مختلف امارات کے درمیان سفری رابطے تیز کرنے کے لیے نئی وفاقی شاہراہ E-911 کی منصوبہ بندی پر پیش رفت جاری ہے۔ مجوزہ شاہراہ دبئی اور شارجہ کی سرحد سے راس الخیمہ تک تعمیر کی جائے گی، جس میں دونوں سمتوں کو ملا کر 12 سے 16 لین تک گنجائش رکھنے کی تجویز ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 68 کلومیٹر طویل شاہراہ کے علاوہ ام القوین میں ایمریٹس روڈ E-611 سے منسلک کرنے کے لیے 8 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک بھی منصوبے میں شامل ہے۔ اس منصوبے میں 10 بڑے چوراہے اور چار فلائی اوور تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اس کی تخمینی لاگت تقریباً 6 ارب درہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق شاہراہ کا مجوزہ راستہ منظور ہو چکا ہے اور ابتدائی تصوراتی ڈیزائن بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ اب انجینئرنگ مشاورت اور تفصیلی ڈیزائن کے مراحل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نئی شاہراہ سے دبئی، شارجہ اور شمالی امارات کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے شہریوں، ملازمین اور کاروباری افراد کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔ منصوبے کا مقصد سڑکوں کی گنجائش بڑھانا، متبادل راستے فراہم کرنا اور مصروف اوقات میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
E-911 شاہراہ متحدہ عرب امارات کے وفاقی سڑکوں کے نیٹ ورک میں ایک اہم اضافہ ہوگی، جہاں پہلے ہی E-11، E-311 اور E-611 جیسی بڑی شاہراہیں مختلف امارات کو آپس میں ملاتی ہیں۔
یہ منصوبہ جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی ترقی اور شہریوں کے سفر کو مزید آسان بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس سے مستقبل میں آمدورفت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔





