دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات نے صحت مند معاشرے کی تشکیل اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے غذائی صحت کے شعبے میں اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت پیک شدہ غذائی اشیا میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار محدود کی جائے گی تاکہ شہریوں کو صحت مند خوراک کے بہتر انتخاب میسر آ سکیں۔
گلف نیوز کے مطابق وزارتِ صحت و تحفظِ معاشرہ نے اکتوبر 2026 میں مخصوص غذائی مصنوعات کے لیے نئے غذائی معیار متعارف کرائے ہیں۔ ان ضوابط پر مرحلہ وار عمل درآمد ہوگا، جبکہ 31 دسمبر 2030 تک متعلقہ مصنوعات کو حتمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔
قومی صحت و غذائیت کے سروے 2024-2025 کے مطابق ملک میں 96.2 فیصد بالغ افراد تجویز کردہ مقدار سے زیادہ سوڈیم استعمال کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت نے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
نئے قوانین کے تحت ڈبل روٹی، میٹھے دودھ، ذائقے دار دہی، لبن اور مختلف اسنیکس سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد غذائی اشیا میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار کے لیے حدود مقرر کی گئی ہیں۔
یو اے ای میں صحت مند خوراک کے فروغ کے لیے اسکولوں میں بھی خصوصی پروگرام جاری ہیں، جن کے ذریعے بچوں کو متوازن غذا اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ موٹاپے کی بروقت تشخیص اور انفرادی ضروریات کے مطابق علاج و رہنمائی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق موٹاپے کی روک تھام اور مؤثر علاج سے 2031 تک متحدہ عرب امارات کی معیشت کو تقریباً 51 ارب ڈالر کا ممکنہ فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں 1.5 ارب ڈالر تک کی مجموعی بچت کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید قوانین، عوامی آگاہی اور صحت مند خوراک کے فروغ کے ذریعے ایک زیادہ صحت مند اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جائے۔





