دہلی (جانب منزل نیوز) بھارت میں احتجاجی مارچ سے قبل پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی رہنما ابھیجیت دیپکے کو حفاظتی حراست میں لے لیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی سربراہ نیہا بورا کو رہا کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ابھیجیت دیپکے کے خلاف بھارتی شہری تحفظ قانون کی دفعات کے تحت کارروائی کی ہے اور انہیں خصوصی انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ابھیجیت دیپکے کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب رہائی کے بعد نیہا بورا نے الزام عائد کیا کہ پولیس مظاہرین کو بلاجواز حراست میں لے کر کئی گھنٹے تھانوں میں رکھتی ہے، جس کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ابھیجیت دیپکے سمیت تمام زیرِ حراست مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ جمعے کو دہلی کے کناٹ پلیس میں ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مارچ سے قبل دونوں رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں تنظیموں نے اپنے رہنماؤں تک رسائی اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
کاکروچ جنتا پارٹی، حزبِ اختلاف کی جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے گروہ بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں اور ووٹرز کی خصوصی جانچ کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔





