جرمنی (جانب منزل نیوز) مغربی جرمنی کے شہر ویزلنگ کے ایک عام سے کھیت میں گھومتے ہوئے شوقیہ ماہرِ آثارِ قدیمہ اولیور ریڈل نے شاید کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے ہاتھ میں موجود ‘میٹل ڈیٹیکٹر’ کی ایک مسلسل بیپ ان کی زندگی کی سب سے بڑی دریافت بن جائے گی۔ زمینی گہرائی سے ملنے والے 934 رومی چاندی کے سکوں نے نہ صرف آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے بلکہ اسے شہنشاہ ہیڈرین کے دور سے متعلق جرمنی کی تاریخ کا سب سے بڑا خزانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
قصہ کچھ یوں شروع ہوا کہ اولیور ریڈل تقریباً ایک سال قبل علاقے میں اپنے دھاتی سراغ رساں آلے کے ساتھ قدامت کی تلاش میں نکلے۔ کچھ ہی دیر میں انہیں چند رومی سکے ملے، لیکن آلہ مسلسل سگنل دیتا رہا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھے، آلے کی آواز مزید تیز اور مسلسل ہوتی گئی۔ اولیور سمجھ گئے کہ زمین کے نیچے چند سکے نہیں بلکہ کوئی بڑا تاریخی راز دفن ہے۔
انہوں نے فوراً محکمہ آثارِ قدیمہ کو اطلاع دی، جس کے بعد ماہرین نے موقع پر پہنچ کر باقاعدہ کھدائی شروع کی۔ جب زمین نے اپنا سینہ چاک کیا تو وہاں سے مجموعی طور پر 3.1 کلوگرام وزنی **934 چاندی کے رومی ڈیناری برآمد ہوئے
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نایاب سکے دوسری صدی عیسوی کے دوسرے چوتھائی میں کسی بڑی جنگ یا ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تحفظ کی خاطر زمین میں دفن کیے گئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب اس خطے جرمانیہ میں رومی سلطنت کا طوطی بولتا تھا اور تجارتی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق شہنشاہ ہیڈرین کے عہد سے متعلق جرمن سر زمین سے برآمد ہونے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا نایاب خزانہ ہے
صدیاں پرانے اس شاندار اور چمکدار خزانے کو اب بون شہر کے معروف ایل وی آر لینڈز میوزیم بون میں پہلی بار منظم انداز میں عوام کے لیے نمائش پر رکھ دیا گیا ہے، جہاں شائقینِ تاریخ اس حیرت انگیز دریافت کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں








