جنگ(جانب منزل نیوز)بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں "ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملنے والی قدیم مہروں کے رسم الخط کی علامات کا مطالعہ: وادیٔ سندھ کے رسم الخط کے ماخذ کی تلاش کے انگریزی ایڈیشن کی تقریبِ رونمائی ہوئی ۔
انر منگولیا ہونڈر کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز کے صدر پروفیسر ژو یوشو اور ان کی ٹیم کی جانب سے تحریر کردہ مطالعے میں ہڑپہ اور موہنجو دڑو سے دریافت ہونے والی 401 نسبتاً مکمل مہروں کا جائزہ لیا گیا اور 132 انفرادی علامات کی تشریح پیش کی گئی ۔ یہ تحقیق ان علامات کا موازنہ قبل از تاریخ کے چین خاص طور پر ہونگ شان ثقافتی خطے سے وابستہ کتبوں، تصاویر اور ثقافتی روایات سے کرتی ہے اور موجودہ پاکستان اور چین کے خطوں کی قدیم تہذیبوں کے درمیان ممکنہ روابط کا جائزہ لیتی ہے۔
پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے شرکا کا خیرمقدم کیا۔نے پروفیسر ژو، ان کی تحقیقی ٹیم، مترجمین اور انر منگولیا ہونڈر کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز کو اس اشاعت میں ان کے کردار پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس مطالعے کو دونوں قدیم تہذیبوں کے درمیان ممکنہ تاریخی اور ثقافتی روابط پر تحقیق میں اہم پیش رفت قرار دیا۔یہ مطالعہ آباؤ اجداد کی معاشرت کی عکاسی، رسومات کی علامات و نذرانے، جانوروں کی تصاویر، پیدائش، غیب دانی ، گرج چمک اور آباؤ اجداد کی پوجا جیسے تصورات سے وابستہ علامات میں ممکنہ مماثلتوں کو اجاگر کرتا ہے۔
تقریبِ رونمائی میں پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کی اہمیت اور دونوں ممالک کی قدیم تہذیبوں کے بارے میں فہم کو گہرا کرنے میں مشترکہ علمی کاوشوں کے کردار پر زور دیا گیا۔ یہ تحقیق اب انگریزی میں دستیاب ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے پاکستانی عوام کے ایک وسیع تر حلقے تک پہنچایا جا سکے۔اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی اور عوامی سطح کے تبادلوں کے لیے پروفیسر ژو یوشوکی دیرینہ خدمات کو بھی اجاگر کیا گیا۔








