دبئی (جانب منزل نیوز) عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بائنانس کے بڑے سائبر حملے نے تہلکہ مچا دیا، ہیکرز نے 6.3 ارب ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی چوری کرنے کے بعد رقم کو 10 ہزار سے زائد ڈیجیٹل والٹس میں تقسیم کرکے منتقل کیا، تاکہ چوری شدہ دولت کا سراغ لگانا مشکل بنایا جا سکے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیق کے مطابق 29 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد ہیکرز نے مختلف کرپٹو سروسز اور بلاک چین نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے رقم کی منتقلی جاری رکھی۔ بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالیسس کے مطابق ابتدائی 72 گھنٹوں میں 46 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے چوری شدہ اثاثے THORChain کے ذریعے منتقل کیے گئے، جس سے متعلقہ آپریٹرز کو 2 لاکھ ڈالر سے زائد فیس بھی حاصل ہوئی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 4 ملین ڈالر Wasabi Wallet کے ذریعے بھی منتقل کیے گئے۔ دوسری جانب بلاک چین انٹیلی جنس کمپنی Bitquery نے اپنی الگ تحقیق میں پہلے ہفتے کے دوران تقریباً 333 ملین ڈالر کے چوری شدہ اثاثوں کی منتقلی یا کیش آؤٹ سروسز کی جانب پیش رفت کا سراغ لگایا۔
رپورٹ کے مطابق چوری شدہ کرپٹو کرنسی کا تقریباً نصف حصہ منجمد کیا جا چکا ہے، تاہم اندازوں کے مطابق تقریباً 3 ارب ڈالر اب بھی ہیکرز کے کنٹرول میں ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کو منجمد کرنا ان کی اصل مالکان کو واپسی کی ضمانت نہیں۔





