دبئی (جانب منزل نیوز) دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں ایک نیا رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے، جہاں برسوں سے کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر غیر ملکی شہری اب اپنے گھر کے مالک بننے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ کرایوں میں نسبتاً کمی، مکانات کی بڑھتی دستیابی اور دبئی کو مستقل رہائش بنانے کے رجحان نے گھر خریدنے میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔
پراپرٹی ماہرین کے مطابق ایسے غیر ملکی خاندان جو گزشتہ تین، پانچ یا آٹھ برس سے دبئی میں مقیم ہیں، اپنے بچوں کو مقامی اسکولوں میں تعلیم دلوا رہے ہیں اور طویل المدتی رہائشی ویزوں کے حامل ہیں، اب کرائے کے معاہدوں کی تجدید کے بجائے اپنی ملکیت کا گھر خریدنے پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دبئی میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران تقریباً 34 ہزار رہائشی پراپرٹی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 72.6 ارب درہم رہی۔ دوسری جانب 2026 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 22 ہزار 500 ہوم لون ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد سے زائد ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرایہ دار اب ماہانہ کرائے اور گھر کی قسط کا موازنہ کرکے فیصلہ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر فوری رہائش کے لیے تیار مکانات خریداروں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں، کیونکہ خریداری سے قبل ان کا معائنہ اور چند ہفتوں میں منتقلی ممکن ہے۔
دبئی میں رہائشی مکانات کی فراہمی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران تقریباً 24 ہزار 800 نئے رہائشی یونٹس مارکیٹ میں شامل ہوئے، جبکہ 2027 سے 2030 کے دوران 5 لاکھ 25 ہزار سے زائد یونٹس کی فراہمی متوقع ہے۔





