نئی دہلی (جانب منزل نیوز) بھارتی دارالحکومت دہلی کے ایک نجی اسکول میں 9 سالہ طالبہ کی اچانک موت نے ہنگامی طبی سہولیات اور اسکولوں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات کھڑے کردیے۔
مایور وہار فیز 2 کے لوولی ہیریٹیج اسکول میں تیسری جماعت کی طالبہ کھیل کے پیریڈ کے بعد کلاس روم میں واپس آئی، جہاں چند لمحوں بعد اچانک زمین پر گر پڑی۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق طالبہ کے اچانک گرنے پر استاد نے اسے اٹھا کر کرسی پر بٹھانے کی کوشش کی، تاہم بچی بے ہوش دکھائی دی۔ بعد ازاں اسے اسکول سے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے مزید طبی امداد کے لیے ملک اسپتال، نرمان وہار لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے بچی کی موت کی تصدیق کردی۔
اسکول کی پرنسپل بھاونا ملک کے مطابق طالبہ کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا اور اسے فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ دوسری جانب اہل خانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ بچی کو بے ہوش ہونے کے فوراً بعد سی پی آر کیوں نہیں دی گئی اور اسکول میں ہنگامی طبی انتظامات کس حد تک مؤثر تھے
پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہے۔ حکام کے مطابق طالبہ کی موت کی حتمی وجہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہوگی۔ واقعے نے تعلیمی اداروں میں ابتدائی طبی امداد، سی پی آر کی تربیت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔





