مسقط (جانب منزل نیوز) عمان نے شوریٰ کونسل کے ارکان کی حاضری سے متعلق قوانین سخت کرتے ہوئے سرکاری بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پالیسیوں کی نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سلطان ہیثم بن طارق کی جانب سے 26 اکتوبر 2026 کو جاری شاہی فرمان نمبر 97 کے تحت قانون میں نئی ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد شفافیت، جوابدہی اور بہتر طرز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔
نئے قانون کے مطابق شوریٰ کونسل کا کوئی رکن مسلسل تین اجلاسوں یا ایک سال کے دوران پانچ الگ الگ اجلاسوں میں غیر حاضر رہنے پر اپنی نشست سے محروم ہو جائے گا۔ یہ پابندی کونسل، بیورو اور کمیٹیوں کے اجلاسوں پر بھی لاگو ہوگی۔
قانون میں اہم تبدیلی کے تحت سرکاری بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے مسودے بیک وقت ریاستی کونسل اور شوریٰ کونسل کو جائزے کے لیے بھیجے جائیں گے۔ شوریٰ کونسل اب معاشی چیلنجز اور ترقیاتی اقدامات سے متعلق اپنی سفارشات بھی حکومت کو پیش کر سکے گی۔
نئی ترامیم کے تحت پارلیمانی استثنیٰ کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ استثنیٰ کے غلط استعمال کی صورت میں متعلقہ ایوان کو اسے ختم کرنے اور قانونی کارروائی کی اجازت دینے کی درخواستوں پر غور کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ ریاستی کونسل اور شوریٰ کونسل کے ارکان بیک وقت عمان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بورڈ میں خدمات انجام نہیں دے سکیں گے۔
نئے قانون میں نگرانی کے اختیارات کے استعمال کی حدود بھی واضح کی گئی ہیں۔ ان اختیارات کو ذاتی معاملات، نجی مفادات، زیرِ سماعت مقدمات یا قومی سلامتی سے متعلق امور میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
ان ترامیم کو عمان میں قانون سازی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، حکومتی کارکردگی میں شفافیت اور عوامی مفاد کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





