دبئی (جانِب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ہولو گولڈ جیولری کی مقبولیت بڑھنے لگی۔ بڑے اور نمایاں ڈیزائن کے زیورات کم وزن اور نسبتاً کم قیمت میں دستیاب ہونے کے باعث نوجوانوں، پہلی مرتبہ زیورات خریدنے والوں اور دلہنوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
زیورات سازوں کے مطابق اس تکنیک سے بڑے سائز کے جھمکے، چوڑیاں اور دیگر فیشن ایبل زیورات کم وزن میں تیار کیے جا سکتے ہیں، جس سے صارفین کو کم قیمت میں اپنی پسند کے ڈیزائن خریدنے کا موقع ملتا ہے۔
جیولرز کے مطابق ہولو گولڈ کے تین بڑے خریدار گروپ سامنے آئے ہیں، جن میں نوجوان اور پہلی مرتبہ زیورات خریدنے والے افراد، شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے نمایاں زیورات پسند کرنے والی دلہنیں اور فیشن کے شوقین صارفین شامل ہیں۔
معروف جیولری برانڈز بھی ہولو گولڈ چوڑیوں اور دیگر ڈیزائنز کو اپنی مصنوعات میں شامل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری، شادی کے تحائف اور خاندانی ورثے کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس سونے کے زیورات اب بھی زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان میں سونے کا وزن اور دوبارہ فروخت کی قدر اہمیت رکھتی ہے۔
جیولری انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہولو گولڈ نے اپنی الگ مارکیٹ بنا لی ہے اور یہ ٹھوس سونے کا متبادل نہیں بلکہ صارفین کے لیے ایک اضافی انتخاب ہے۔
ہولو گولڈ کے زیورات اپنے ڈیزائن اور ساخت کے باعث ٹھوس سونے کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوسکتے ہیں۔ ان پر دباؤ پڑنے سے ڈینٹ یا ساخت میں تبدیلی کا خدشہ رہتا ہے، اس لیے انہیں احتیاط سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
ماہرین خریداروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ زیورات خریدتے وقت ان کی ساخت، وزن، خالص پن اور تیاری کے طریقے سے متعلق مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ خریداری ایک باخبر فیصلہ ثابت ہو۔
سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران ہولو گولڈ جیولری صارفین کو کم بجٹ میں جدید، دلکش اور نمایاں انداز اپنانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔





