ابوظہبی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات نے جوہری اور تابکاری سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ ابوظہبی میں 25 سے زائد قومی اداروں کے ماہرین کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی، جس کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، مربوط اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق وفاقی اتھارٹی برائے جوہری ضابطہ کاری (ایف اے این آر)، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور ابوظبی سول ڈیفنس اتھارٹی کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ دو ہفتوں کا پروگرام 12 سے 23 اکتوبر تک جاری رہا۔
تربیتی پروگرام میں ہنگامی منصوبہ بندی، جوہری اور تابکاری کے ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے طریقوں، عملی مشقوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر توجہ دی گئی۔ مختلف اداروں کے ماہرین نے اپنے تجربات کا تبادلہ بھی کیا تاکہ ہنگامی حالات میں مشترکہ کارروائی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ایف اے این آر کے ڈائریکٹر جنرل حمد الکعبی نے کہا کہ حالیہ عالمی پیش رفت نے جوہری اور تابکاری سے متعلق ہنگامی حالات کے لیے مسلسل تیار رہنے کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات تربیت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے، تاکہ عوام، کارکنوں اور ماحول کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ابوظہبی سول ڈیفنس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سالم عبداللہ بن بارک الظاہری نے بھی مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی، مسلسل تربیت اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کو اہم قرار دیا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا یہ تربیتی پروگرام 2015 سے مختلف ممالک میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ابوظبی میں اس پروگرام کی میزبانی متحدہ عرب امارات کی جوہری تحفظ، جدید ہنگامی تیاریوں اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔





