ابوظہبی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات کے انجینئر محمد الشحی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام تیار کیا ہے جو سائبر حملوں کی نشاندہی صرف 0.87 ملی سیکنڈ میں کرسکتا ہے۔ نظام کی آزمائش کے دوران 97.45 فیصد درستگی ریکارڈ کی گئی اور یہ سائبر حملوں کی 14 مختلف اقسام کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد الشحی ہائر کالجز آف ٹیکنالوجی میں ڈیٹا سائنٹسٹ اور لیکچرر ہیں۔ ان کی تحقیق کا مقصد اسمارٹ گھروں، نگرانی کے کیمروں، سینسرز اور صنعتی آلات سمیت انٹرنیٹ سے منسلک ڈیوائسز کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے کم وسائل استعمال کرنے والی مؤثر ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق جدید نظام میں کمپیوٹنگ پاور اور میموری کی ضروریات کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کو مختصر اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ اس سے محدود میموری اور پروسیسنگ صلاحیت رکھنے والے آلات پر بھی سائبر سکیورٹی کی جدید سہولتیں فراہم کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
محمد الشحی نے 29 اکتوبر کو ابوظہبی کی خلیفہ یونیورسٹی میں منعقدہ بارہویں ورلڈ انٹرنیٹ آف تھنگز کانگریس میں اپنے تحقیقی نتائج پیش کیے۔ اس بین الاقوامی کانگریس میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ شہروں کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق مرکزی ماڈل کا حجم تقریباً 301 کلو بائٹس تک محدود کیا گیا، جبکہ اس کا مزید مختصر ورژن تقریباً 152 کلو بائٹس کا ہے، جس نے آزمائش میں تقریباً 0.61 ملی سیکنڈ میں پیش گوئی کی۔
ماہرین کے لیے یہ پیش رفت اسمارٹ گھروں، فیکٹریوں، صنعتی مراکز اور اسمارٹ سٹی منصوبوں میں تیز رفتار سائبر تحفظ کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیق اور ترقی کے مرحلے میں ہے اور تجارتی استعمال سے قبل مزید عملی آزمائشوں کی ضرورت ہوگی۔




